ہم جنس پرستی پر کیوریٹیو درخواستیں دستوری بینچ سے رجوع

نئی دہلی۔ 2 فروری (سیاست ڈاٹ کام)  سپریم کورٹ کی پانچ ججس پر مشتمل دستوری بینچ ، کیوریٹیو درخواستوں کی سماعت کرے گی جس میں ’’بالغوں میں باہمی رضامندی کے ساتھ ہم جنس پرستی‘‘ کو تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت مجرمانہ جنسی سرگرمی قرار دیئے جانے کے فیصلہ کا ازسرنو جائزہ لینے کی خواہش کی گئی ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر ،جسٹس اے آر ڈاوے اور جسٹس جے ایس کھیہر پر مشتمل بینچ نے کہا کہ اس معاملے میں چونکہ دستور سے متعلق اہم معاملات درپیش ہیں لہذا بہتر یہی ہوگا کہ اسے پانچ ججس پر مشتمل دستوری بینچ سے رجوع کیا جائے ۔ بینچ نے کہا کہ وسیع تر بینچ مستقبل میں تشکیل دی جائے گی۔ بینچ کو بتایا گیا ہے کہ 8 کیوریٹیو درخواستیں ہیں جن میں 11 ڈسمبر 2013ء کے فیصلہ اور نظرثانی درخواستوں پر جاری کردہ حکم کے ازسرنو جائزہ کی خواہش کی گئی ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ 377 (غیرفطری جنسی جرم) کے بارے میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ اسے جرم قرار نہیں دیا جانا چاہئے۔ بینچ کو مطلع کیا گیا کہ شمالی ہند کے گرجا گھروں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ بھی ہم جنس پرستی کو غیرمجرمانہ قرار دینے کے خلاف ہیں۔ سینئر وکیل کپل سبل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کئی دستوری مسائل شامل ہیں۔ اس مقدمہ میں کئی سینئر وکلاء پیروی کررہے ہیں چنانچہ بینچ نے کہا کہ اس اہم مسئلہ کو پانچ ججس پر مشتمل دستوری بینچ سے رجوع کیا جائے ۔