ہماچل پردیش میں 5حیدرآبادی طلبہ کی نعشیں دستیاب

زندہ بچ جانے والے 24طلبہ کی آمد‘ شمس آباد ایئرپور ٹ پرجذباتی مناظر ‘ارکان خاندان جذبات سے مغلوب

شمس آباد ۔9جون ( محمود علی خان نامہ نگار سیاست ) ہماچل پردیش کے دریائے بیاس میں پیش آئے المناک واقعہ میں محمد صابر حسین شیخ کے بشمول حیدرآباد کے پانچ انجنیئرنگ طلباء و طالبات کی غرقابی کے بعد زندہ بچ جانے والے 24 طلبہ آج رات دیر گئے بحفاظت شمس آباد ایئر پورٹ پہنچے ۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھے گئے ۔طلبہ کے فکر مند افراد خاندان اپنے بچوں کے ساتھ بغلگیر ہوگئے اور ان کے صحیح سلامت واپس ہونے پر اطمینان کی سانس لی لیکن ان کے ساتھیوں کی غرقابی پر اپنے شدید رنج و غم کو چھپا نہیں سکے ‘جبکہ ان کے لاپتہ دیگر 20سے زائد ساتھی طلبہ کی تلاش جاری ہے۔ اس دوران ہماچل پردیش کے اعلیٰ عہدیداروں نے کہا ہے کہ لاپتہ طلبہ میں کسی کے زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں ہے کیونکہ دریا میں پانی کی روانی شدت کے ساتھ جاری ہے اور نعشیں تلاش کرنے کی مہم میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ دستیاب شدہ پانچ نعشیں ذریعہ طیارہ حیدرآباد منتقل کی جارہی ہیں جنہیں حاصل کرنے کیلئے طلبہ کے سوگوار ارکان خاندان بیگم پیٹ ایئرپورٹ جمع ہوگئے ہیں ۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے امدادی کاموں میں شدت پیدا کرنے کیلئے ریاستی وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کی قیادت میں ایک ٹیم کو آج صبح ہماچل پردیش روانہ کیا ۔ قبل ازیں ہماچل پردیش سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دریائے بیاس میں بہہ جانے والے حیدرآباد کے 5انجنیئرنگ طلبہ کی نعشوں کو راحت اور بچاؤ ٹیم کے کارکنوں نے نکال لیا ہے جب کہ دیگر 20ساتھی طلبہ کا حشر معلوم نہیں ہوسکا ہے ‘ جن کی تلاش جاری ہے۔

اس دوران چیف منسٹر ہماچل پردیش ویربھدرا سنگھ نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دیا اور انہوں نے لارجی پن بجلی پراجکٹ کے ریسیڈنٹ انجنیئر کی معطلی کا حکم بھی دیا ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے بھی اس واقعہ پر جس میں دریائے بیاس کے کنارے تصویرکشی میں مصروف 25طلبہ کل شام بہہ گئے تھے ‘ ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ دریا کے سطح آب میں اچانک اضافہ ہوگیا تھا کیونکہ 126میگاواٹ کے لارجی ہائیڈرو پاؤر پراجکٹ کے ذخیرہ آب سے پانی چھوڑا گیا تھا۔ ایس ایس بی کی ٹیموں نے مقامی غوطہ خوروں ‘ ہوم گارڈس اور پولیس کی اعانت سے پانڈوڈیم کا تھلوٹ علاقہ تک تلاشی مہم میں شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ منڈی میں واقع کنٹرول روم میں ایس ایس بی عہدیداروں نے کہا کہ دریائے سے نکالی گئی پانچ نعشوں میں لڑکوں کی تین اور لڑکیوں کی دو نعشیں شامل ہیں ۔ عہدیداروں نے اس خوف کا اظہار کیا کہ لاپتہ طلبہ کے زندہ بچ جانے کے امکانات بہت ہی کم ہے کیونکہ دریا میں پانی کی روانگی شدت کے ساتھ جاری ہے ۔ دوسری طرف ریت اور گندگی کے انبار ہیں۔ عہدیداروں نے کہا کہ ’’ دریا سے بھاری مقدار میں پانی کے اخراج اور کشتیوں کی قلت تلاشی مہم میں تاخیر اور دشواریوں کا سبب بن رہی ہے لیکن ہمارے پاس لاپتہ افراد کے ناموں کی فہرست جاری ہے اور امید ہے کہ ہم نعشیں برآمد کرلیں گے ۔ ہمارے جوان کشتیوں میں سوار ہیں اور دریائے بیاض کے کنارے سخت چوکسی اختیار کی جارہی ہے ۔ قومی ڈیزاسٹرس ریسپانس فورس کی ٹیمیں اور بی بی ایم بی کے غوطہ خور بھی اس مقام پر پہنچ چکے ہیں ‘‘ ۔ چیف منسٹر ویر بھدرا سنگھ نے ریسیڈنٹ انجنیئر کو معطل کردیا اور ڈیم سے پانی کی اجرائی سے قبل افراد کو خبردار نہ کرنے پر متعلقہ اسٹاف کے خلاف کیس رجسٹرڈ کیا گیا ہے ۔