ہماچل سانحہ کیلئے کالج انتظامیہ بھی برابر کا ذمہ دار

طلبہ کے ساتھ تجربہ کار اسٹاف روانہ نہیں کیا گیا تھا ، وزیرداخلہ نرسمہا ریڈی کا بیان

حیدرآباد 17 جون (سیاست نیوز) ہماچل پردیش ریاست میں واقع بیاس ندی میں شہر حیدرآباد کے ایک انجینئرنگ کالج کے (25) طلباء و طالبات کے غرق ہوجانے کے سانحہ کی مکمل تفصیلات پر مشتمل رپورٹ چیف منسٹر ریاست تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کو بہت جلد پیش کی جائے گی تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کا اعادہ نہ ہونے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جاسکیں۔ وزیرداخلہ ریاست تلنگانہ مسٹر این نرسمہا ریڈی جو گزشتہ ایک ہفتہ سے بیاس ندی میں غرق ہوجانے والے طلباء و طالبات کی نعشوں کی تلاشی مہم انجام دینے کیلئے ہماچل پردیش بیاس ندی کے قریب ہی قیام کئے ہوئے تھے۔ حیدرآباد واپس ہونے کے بعد آج چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ سے ملاقات کی اور انجام دیئے گئے راحت کاری اقدامات کی تفصیلات سے واقف کروایا اور کہاکہ لاپتہ نعشوں کا پتہ چلانے کے لئے جامع حکمت عملی مرتب کرکے اس پر عمل آوری کی گئی اور کئے گئے اقدامات کے نتیجہ میں کم سے کم 8 نعشوں کے حصول کو یقینی بنایا جاسکا۔ بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بیاس ندی کے سانحہ کی اطلاع کے ساتھ انجام دیئے گئے راحت کاری اقدامات کا تفصیلی تذکرہ کیا اور بتایا کہ وہ (مسٹر این نرسمہا ریڈی) پرنسپال سکریٹری محکمہ مال مسٹر منیا نے مرکزی قائدین بشمول مرکزی وزیرداخلہ مسٹر راجناتھ سنگھ کے علاوہ چیف منسٹر ہماچل پردیش کے علاوہ بیاس ندی کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے ضلع کلکٹر سے مؤثر نمائندگی کی اور فوری طور پر لاپتہ نعشوں کا پتہ چلانے کیلئے اقدامات کا آغاز کروایا گیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس ندی میں بہہ جانے والے کسی بھی فرد کا آج تک پتہ نہیں چلایا جاسکا۔ لیکن ندی میں غرق ہوجانے والے 25 طلباء و طالبات کے منجملہ کم از کم 8 نعشوں کو تلاشی اقدامات کے ذریعہ ندی سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی جاسکی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ اتفاقی طور پر مذکورہ انجینئرنگ کالج کے طلباء و طالبات نے اپنے دیگر ساتھیوں (جوکہ دوسری بس میں سوار تھے) کی آمد میں ہوئی تاخیر کے باعث بیاس ندی کے پاس رُک کر ان 25 طلباء و طالبات نے تصویر کشی میں مصروف تھے۔ اچانک ڈیم سے کسی قبل ازوقت اطلاع کے پانی چھوڑ دیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں طلباء و طالبات ندی سے باہر نہیں آسکے اور پانی کے تیز بہاؤ کے باعث غرق ہوگئے۔ مسٹر نرسمہا ریڈی نے بتایا کہ مقامی افراد نے انھیں بتایا کہ ڈیم سے کوئی سائیرن یا قبل ازوقت کسی اطلاع کے بغیر ندی میں پانی چھوڑ دینے والے چار انجینئرس کو خدمات سے معطل کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ریاست تلنگانہ کی جانب سے مسٹر چندرشیکھر راؤ کی ہدایت پر مہلوک طلباء و طالبات کی نعشوں کو نکالنے کی حتی المقدور کوشش کی گئی جبکہ تلاشی مہم میں زائداز 700 ملٹری، نیوی اور ماہرین غوطہ خوروں کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن اس کے باوجود خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ تاہم حکومت مایوس نہیں ہے بلکہ اپنے راحت کاری اقدامات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب یہ اقدامات وزیرٹرانسپورٹ مسٹر بی مہیندر ریڈی اور ایل اگروال سینئر آئی اے ایس عہدیدار کی موجودگی یں انجام دیئے جارہے ہیں۔ وزیرداخلہ ریاست تلنگانہ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے مزید بتایا کہ پیش آئے سانحہ کیلئے خود انجینئرنگ کالج انتظامیہ بھی برابر کا ذمہ دار ہے کیونکہ طلباء و طالبات کے ساتھ کوئی تجربہ کار اساتذہ کو روانہ نہیں کیا بلکہ صرف جونیر اساتذہ کو روانہ کیا گیا تھا جوکہ ان طلباء کو قابو میں رکھنے میں ناکام ثابت ہوئے۔