ہر دس میں سے ایک لڑکی کو جنسی تشدد کا سامنا : اقوام متحدہ

جنیوا ، 5 سپٹمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کے بچوں کیلئے خصوصی ادارے یونیسف کی ایک تازہ رپورٹ میں دنیا بھر میں بچوں کے خلاف تشدد کے بارے میں دہلا دینے والے انکشافات کئے گئے ہیں۔ اس رپورٹ میں نفسیاتی، جسمانی اور جنسی تشدد کا ذکر کیا گیا ہے۔ یونیسف کی اس رپورٹ کی تیاری کے سلسلے میں 190 ممالک سے ڈاٹا اکٹھا کیا گیا ہے، جس کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 120 ملین لڑکیوں میں سے ہر دس میں سے ایک بچی کو بیس برس کی عمر تک پہنچنے سے قبل ہی جسمانی یا جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بچوں کے ساتھ ہونے والے تشدد کے بارے میں حقائق منظر عام پر لانے کے حوالے سے یہ اپنی نوعیت کی سب سے زیادہ جامع رپورٹ قرار دی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2012ء میں 95 ہزار بچوں یا نو عمروں کو ہلاک کیا گیا۔ ان ہلاک شدگان کی عمریں 10 تا 19 برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

اس طرح کے واقعات زیادہ تر لاطینی امریکی ممالک میں رپورٹ ہوئے، جن میں وینزویلا، کولمبیا، پاناما اور برازیل سرفہرست ہیں۔ یونیسف نے ’Hidden in Plain Sight‘ نامی اس رپورٹ کے نتائج پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ’دہلا دینے والے‘ حقائق قرار دیا ہے۔ یونیسف کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر انٹونی لَیک کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’یہ پریشان کن حقائق ہیں۔ کوئی بھی حکومت یا والدین ایسا ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے ساتھ تشدد کو معمول کی بات سمجھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ انٹونی لَیک کے بقول بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ زیادتیاں زیادہ تر ایسی جگہوں پر ہوتی ہیں، جہاں انہیں محفوظ ہونا چاہئے۔ دنیا بھر میں 13 تا 15 برس کے بچوں کو اسکولوں میں بڑی عمر کے بچوں کی طرف سے مختلف قسم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح 58 ممالک میں 17 فیصد بچوں کو نظم و نسق سیکھانے کیلئے مختلف قسم کی جسمانی سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مختلف معاشروں میں بچوں کے خلاف اس طرح کے تشدد کو جائز تصور کیا جاتا ہے۔ بچوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے چھ نکاتی ایک جامع حکمت عملی بھی تجویز کی گئی ہے۔