ہر ایک قیدی کے ساتھ مساویانہ سلوک

نئی دہلی۔/2ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نے آج کہا کہ مذہب، ذات پات کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں برتا جارہا ہے اور مجرموں کے ساتھ ان کے جرائم کے مطابق نمٹا جائے گا۔ مملکتی وزیر داخلہ ہری بھائی پرتی بھائی چودھری نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق مختلف جیلوں میں سال 2013ء کے اختتام تک 1,92,202ہندو، 57,936 مسلم، 12,406 عیسائی اور 4,293 دیگر محروس ہیں جنکے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ جیلوں میں مسلم قیدیوں کے تناسب پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذہب یا ذات پات کے نام پر امتیاز نہیں ہوتا کیونکہ مجرم بہرحال مجرم ہوتا ہے۔ مرکزی وزیر نے بتایا کہ ڈسمبر 2013 تک سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد1,29,808 تھی اور مختلف جیلوں میں زیر دوران قیدیوں کی تعداد 2,78,503 تھی۔ انہوں نے بتایا کہ زیر دوران ( انڈر ٹرائیل ) قیدیوں کی رہائی کیلئے سپریم نے ہدایت دی ہے جس کے مطابق ایسے قیدی جنہوں نے اپنے سزائے قید کی نصف مدت مکمل کرلی ہے تقریباً 1.3لاکھ زیر دوران قیدیوں کو جیلوں سے رہا کردیا گیا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی زیر دوران قیدیوں کو رہا کیا جاتا ہے مزید نئے قیدی آجاتے ہیں۔ مسٹر چودھری نے بتایا کہ تمام ریاستی حکومتوں سے گذارش کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کی پابندی کیلئے کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 436A کے مطلوبات کی تکمیل کے بعد زیر دوران قیدیوں کو رہا کردیں۔