ہمارے اتحاد پر اُنگلی اُٹھانے والے کو خود گریبان میں جھانکنے کی ضرورت : پونم پربھاکر
حیدرآباد 9 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسڈنٹ پونم پربھاکر نے گزشتہ ساڑھے چار سال تک بی جے پی اور این ڈی اے کو کس معاہدے کے تحت تائید کی گئی اور اس سے تلنگانہ کو کیا فائدہ ہوا، اس کی وضاحت کرنے کا کارگذار وزیر آبپاشی ہریش راؤ سے سوال کیا۔ مخالف حکومت لہر کو توڑنے کے لئے بی جے پی سے خفیہ اتحاد کرتے ہوئے قبل ازوقت انتخابات کرانے کا الزام عائد کیا۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرنم پربھاکر نے کہاکہ اسمبلی تحلیل کرنے تک ٹی آر ایس حکومت نے بی جے پی اور این ڈی اے کی تائید کی لیکن تقسیم آندھراپردیش کے بل میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے اُن وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا کرنے میں ناکام ہونے والی ٹی آر ایس اور ہریش راؤ کو کانگریس اور تلگودیشم کے مابین اتحاد یا عظیم اتحاد کے ایجنڈے پر سوال کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے۔ کیوں کہ سی آر نے تلنگانہ کے مفادات کو فراموش کردیا اور اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے جس کی وجہ سے اُن وعدوں پر کوئی عمل آوری نہیں ہوئی ہے۔ پونم پربھاکر نے کانگریس سے سوال کرنے والے ہریش راؤ کو پہلے اپنے گریبان میں جھنک کر دیکھنے کا مشورہ دیا۔ صدر و نائب صدرجمہوریہ انتخابات میں بی جے پی امیدواروں کی غیر مشروط تائید کرنے سے قبل ضلع کھمم کے جو 7 منڈل آندھراپردیش میں چلے گئے ہیں اس پر سوال نہ کرنے کی وجہ طلب کی۔ ہائیکورٹ کی تقسیم، کھمم میں اسٹیل فیاکٹری، قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیاکٹری اور قبائیلی یونیورسٹی کے قیام میں مرکز کے عدم تعاون کے باوجود نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور نائب صدرنشین راجیہ سبھا کے انتخابات میں بی جے پی اور این ڈی اے کی تائید کیوں کی گئی اور تحریک عدم اعتماد میں بی جے پی کے خلاف ووٹ کیوں نہیں دیا گیا۔ اس پر تلنگاہ کے عوام سے وضاحت کرنے کا ہریش راؤ سے مطالبہ کیا۔ پونم پربھاکر نے اسمبلی اور لوک سبھا کے علیحدہ علیحدہ انتخابات کرانے کو بھی آر ایس ایس کا ایجنڈہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کے ووٹ نہ ملنے کے خوف سے کے سی آر نے پہلے اسمبلی انتخابات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔