سردجنگ میں اضافہ ہوکر اس کے خانہ جنگی میں تبدیل ہونے کا خوف
بیروت ۔ 5 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سعد ہریری کے لبنان کی وزارت اعظمی سے استعفیٰ پر اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ علاقائی کشیدگی پیدا ہوجائے گی اور چھوٹے سے ملک لبنان میں ایک بار پھر جنگ شروع ہوجائے گی ۔ تجزیہ نگاروں کے بموجب سعودی حمایت یافتہ سنی سیاستداں کے اس اقدام پر لبنان میں سیاسی بے عملی کا ایک بار پھر دور شروع ہوجائے گا ۔ امریکن یونیورسٹی بیروت کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہلال خاشن نے کہا کہ یہ ایک خطرناک فیصلہ ہے جس کے نتائج لبنان کی برداشت کے باہر ہوں گے ۔ ہریری نے سعودی عرب سے ایک نشریہ میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور لبنان میں اس کی حلیف حزب اللہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ نہ صرف اس ملک بلکہ پورے علاقہ میں عدم استحکام پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ حزب اللہ حکومت کا ایک حصہ ہے لیکن اس بارسوخ گروپ جس کے فوجی اسلحہ خانے کابینی عہدوں میں فوج کے حصہ سے کہیں زیادہ ہیں ۔ برسوں سے لبنان میں دو مخالف کیمپوں کی موجودگی کی وجہ بنا رہا ہے ۔ لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کا اثر و رسوخ غلبہ رکھتا ہے ‘ جب کہ سعودی عرب ہریری کی زیرقیادت تحریک کی تائید کرتا ہے ۔ ہریری نے ایک سرد جنگ کا آغازکیا ہے ۔ حزب اللہ حکومت میں شامل ہے اور اس کا اثر و رسوخ پورے لبنان میں پایا جاتا ہے ۔ ہریری کی شروع کی ہوئی سرد جنگ میں اضافہ ہوکر یہ خانہ جنگی بن سکتی ہے ۔ اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہیئے کہ حزب اللہ لبنان میں بے مثال ہے اور اس کی فوجی سطح بہت بلند ہے ۔ لبنان کے سیاسی طبقہ میں اختلافات کی وجہ سے 2005ء میں ہریری کے والد رفیق کا قتل ہوگیا تھا اور ہریری پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ سعودی عرب جاکر اپنی قسمت آزمائیں ۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ صدر شام بشارالاسد کی حکومت اس کی ذمہ دار ہے اور لبنان کی حزب اللہ ان کی حلیف ہے ۔ دیگر سیاسی قتل مخالف حزب اللہ کیمپ میں ہونے کا اندیشہ ہے ۔ طاقتور نیم فوجی تنظیم گذشتہ ایک ماہ سے پڑوسی ملک اسرائیل کے خلاف جنگ کررہی ہے ۔ علاوہ ازیں پُرتشدد جھڑپیں 1975ء سے 1990ء کی خانہ جنگی میں سیاہ دور میں بھی دیکھی گئی ہے ۔