بندروں کو آبادیوں میں داخلے سے روکنے جنگلاتی علاقوں میں پھلوں کے پودوں کی شجرکاری
حیدرآباد۔ 22 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مہاتما گاندھی قومی دیہی ضمانت روزگار اسکیم (منریگا)کے کچھ فنڈس ہریتا ہارم پروگرام کیلئے استعمال کرنے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس پروگرام میں زرعی مزدوروں کی طرف سے کام لینے کے مقصد سے ایک ایکشن پلان تیار کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نرسری سے لے کر شجرکاری تک یقینا اس کا ہر جلسے میں انسانی محنت و مزدوری درکار ہوتی ہے چنانچہ اس کے لئے ایک تفصیلی پراجیکٹ رپورٹ تیار کیا جانا چاہئے۔ چیف منسٹر آج یہاں پرگتی بھون میں تلنگانہ ہریتا ہارم پروگرام کے جائزہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ چیف سیکریٹری ایس کے جوشی، پرنسپال سکریٹری پنچایت راج وکاس راج، کمشنر نیتو پرساد دفتر چیف منسٹر میں سیکریٹری سمیتا سبھروال چیف منسٹر کے اسپیشل سیکریٹری بھوپل ریڈی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ’’ریاست میں نوقائم شدہ پنچایتوں کے بشمول مجموعی طور پر 12,751 پنچایت ہیں۔ پنچایت کو ایک یونٹ متصور کیا جائے گا اور ہر یونٹ میں نرسریز قائم کی جائیں گی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ’’جنگلات کے کٹاؤ اور درختیں اُکھڑ جانے کے سبب سبزہ زار اور ماحولیاتی نظام متاثر ہوتے ہیں۔ اس نقصان کی تلافی کی جانی چاہئے۔ جنگلات کے کٹاؤ اور جنگلات علاقے میں تخفیف کے متعدد مسائل پیدا ہوئے ہیں اور انسانی مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔ جنگلی پھلوں کے درخت ختم ہوجانے کے سبب بندر اپنا چارہ تلاش کرتے ہوئے دیہاتوں میں داخل ہورہے ہیں چنانچہ دیہاتوں میں الائچی، بیر، سیتا پھل، امرودھ اور دیگر پھلوں کے درخت لگائے جارہے ہیں تاکہ اس سے انسانوں کے علاوہ بندروں اور پرندوں کی غذا حاصل ہوسکے‘‘۔