ہجومی تشدد کے واقعات کو سرکاری سرپرستی : اگنی ویش

کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی پر بندھوا مکتی مورچہ کی تقریب سے سماجی کارکن کا خطاب
نئی دہلی ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) سماجی کارکن سوامی اگنی ویش جن پر 17 جولائی کو بی جے پی اور آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والوں نے حملہ کیا تھا، کہا کہ واقعات کا تسلسل الور میں ہجومی تشدد اور ملک گیر سطح پر دیگر حملے ایک مخصوص نمونہ ہے جسے سرکاری سرپرستی راست یا بالواسطہ طور پر حاصل ہے۔ بندھوا مکتی مورچہ کے زیراہتمام ایک تقریب سے کانسٹی ٹیوشن آف انڈیا پر تقریر کرتے ہوئے سینئر سماجی کارکن نے کہا کہ یہ ایک نمونہ ہے جس کا تعلق الور یا جھارکھنڈ سے نہیں ہے۔ اگر آپ گذشتہ دو سال کا جائزہ لیں تو یہ واقعات راست یا بالواسطہ طور پر سرکاری زیرسرپرستی انجام پارہے ہیں۔ ان واقعات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ حملے اقلیتوں، دلتوں اور آدی واسیوں پر کئے جارہے ہیں۔ ریاستی حکومتوں یا برسراقتدار پارٹی نے ایسے غیرسماجی عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ ایف آئی آر میں ملزموں کے نام ان پر حملہ کے سلسلہ میں درج کئے گئے تھے۔ ریاستی صدر بی جے پی نے دعویٰ کیا تھاکہ ان کی پارٹی کا کوئی کارکن حملوں میں ملوث نہیں ہے لیکن رپورٹ کہتی ہیکہ حملہ آور نے کس طرح جن کا تعلق بی جے پی اور اس کی دیگر تنظیموں سے تھا، حملہ کیا۔