وزیر اعظم مودی اور چیف منسٹر کے سی آر کی معنی خیز خاموشی پر عوام میں مایوسی
حیدرآباد۔/18جولائی، ( سیاست نیوز) ہندوستان بھر میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہجومی تشدد کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اس معاملے میں عدالت عظمی نے جو ریمارکس کئے ہیں وہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کے علاوہ نفاذ قانون کی ایجنسیوں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہیں۔ ہجومی تشدد نے عالمی سطح پر ہندوستان کی شبیہ متاثر کی ہے۔ سارا ہندوستان اس مسئلہ پر چیخ و پکار کررہا ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی بلکہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ لیکن اطمینان کی بات یہ ہے کہ راہول گاندھی جیسے سیکولر قائدین ہجومی تشدد کی شدید مذمت کررہے ہیں اور اس کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے بھی راہول گاندھی کے خیالات کی ترجمانی کردی ہے۔ حال ہی میں کرناٹک کے ضلع بیدر میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے گوگل کے ایک نوجوان انجینئر محمد اعظم اور ان کے ساتھیوں کو ہجومی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعہ میں 32سالہ سافٹ ویر انجینئر محمد اعظم شہید ہوگیا۔ اعظم کی موت سے ان کے گھر میں غم کی لہر دوڑ گئی، ان کے والدین اور رشتہ دار یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ ہمارے بچے کا آخر قصور کیا تھا۔ اگر واقعہ کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کا قصور ان کی رحمدلی، انسانیت نوازی اور غریبوں کی مدد کا جذبہ تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت میں اس طرح کے جذبات و احساسات رکھنے والوں کی خیر نہیں ہے۔ بہر حال محمد اعظم جیسے قابل نوجوان کی موت پر مودی جی کو تو کوئی تکلیف نہیں ہوئی لیکن صدر کانگریس راہول گاندھی تڑپ اُٹھے۔ انہوں نے فوری صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے شہید محمد اعظم کے خاندان کی ہر ممکن مدد کرنے کی درخواست ہے۔ اپنے مکتوب میں راہول گاندھی نے لکھا ہے ’’ مجھے حیدرآبادی نوجوان محمد اعظم کی کرناٹک کے ضلع بیدر میں ہجومی تشدد کے باعث ہلاکت پر گہرا صدمہ پہنچا ہے۔ سوشیل میڈیا کے ذریعہ پھیلائی گئی افواہوں سے ایک بے قصورکی جان کے اتلاف کی سخت الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیئے۔‘‘ راہول گاندھی نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ آئندہ سال عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں ایسا لگتاہے، ہمارے معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو سوشیل میڈیا کے ذریعہ زہر آلود کرنے کے ناپاک عزائم پر عمل کیا جارہا ہے۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم کو اقلیتوں اور دیگر محروم گروپس کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔اس خطرناک رجحان کو بے نقاب کرنا اور اس کے خلاف لڑنے کی ضرورت ہے۔ راہول گاندھی نے اتم کمار ریڈی سے کہا کہ وہ اس مسئلہ کو عوامی فورمس میں اٹھائیں اگرچیکہ یہ بدبختانہ واقعہ کرناٹک میں پیش آیا ہے۔ تلنگانہ میں بھی اس طرح کے واقعات کے خلاف لڑنے اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہیئے۔ ساتھ ہی ان تنظیموں اور افراد سے تعاون بھی کریں جو سوشیل میڈیا کی افواہوں کے خلاف عوام میں شعور بیدار کررہے ہیں۔