ہجومی تشدد روکنے، نوڈل آفیسرس کے تقرر، ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہدایت

مویشیوں کی اسمگلنگ ، بچہ چوری کی افواہوں پر تشدد روکنے کی ہدایت، ریاستوں کو مرکز کا مشاورتی نوٹ

نئی دہلی 24 جولائی (سیاست نیوز) مرکز نے تمام ریاستوں کو ہجومی تشدد کے ہاتھوں افراد کی ہلاکت کے واقعات کو روکنے کے مقصد سے سپرنٹنڈنٹ پولیس کی سطح کے ایک آفیسر کو ہر ضلع میں نوڈل (نگران) آفیسر کی حیثیت سے تقرر کرنے، خفیہ معلومات جمع کرنے کے لئے خصوصی ٹاسک فورس کے قیام اور سوشل میڈیا مواد پر کڑی نگرانی رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی کو بھی گایوں کی اسمگلنگ یا بچوں کی چوری کے شبہ پر حملے کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ ہجومی تشدد اور جنونیوں کے ہاتھوں زدوکوب میں افراد کی ہلاکت کو روکنے اور ہجومی تشدد جیسے کسی بھی جرم کے ضمن میں دی جانے والی ہدایات پر تعمیل میں ناکام ثابت ہونے والے ضلع انتظامیہ کے افسر یا متعلقہ پولیس افسر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ متعلقہ افسران کی ان ہدایات کی عدم تعمیل کو دانستہ غفلت و لاپرواہی تصور کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس ضمن میں 17 جولائی کو کی گئی ہدایت کے سبب تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو یہ مشاورتی نوٹ روانہ کیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز اور پولیس سربراہان (ڈی جی پی) کو بھیجے گئے مشاورتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سپریم کورٹ ہدایات پر مکمل روح و منشاء کے ساتھ عمل کیا جائے۔ نیز بعجلت ممکنہ کارروائی رپورٹ بھی مرکز کو روانہ کی جائے‘‘۔ مشاورتی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ملک کے بعض حصوں میں گائے کی اسمگلنگ یا بچوں کی چوری جیسے غیر مصدقہ اطلاعات اور افواہوں پر ہجومی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔ یہ دراصل افراد کی جانب سے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی مثالیں ہیں جو قانون کی حکمرانی کے بنیادی اُصولوں کے خلاف ہے‘‘۔ وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں وزراء کے گروپ اور معتمد داخلہ کی قیادت میں ایک کمیٹی کے قیام کے بعد یہ مشاورتی نوٹ بھیجا گیا ہے جو اس ماہ کے دوران ریاستوں کو بھیجا جانے والا دوسرا مشاورتی نوٹ ہے۔