ہاسپٹلس دکانیں بن گئے ہیں: ہائیکورٹ

ممبئی ۔13 جون (سیاست ڈاٹ کام) طب کے پیشہ کو تجارتی بنانے پر اظہارافسوس کرتے ہوئے بامبے ہائیکورٹ نے آج تبصرہ کیا کہ ’’آج کل دواخانہ دوکانیں بن گئے ہیں‘‘۔ ڈاکٹرس اپنے فرائض بھول گئے ہیں۔ بیشتر دواخانے تجارتی خطوط پر دوکانوں کی طرح چلائے جارہے ہیں جن کیلئے پیسہ ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ہائیکورٹ کی ڈیویژن بنچ کے جسٹس وی ایم کاناڈے اور پی ڈی کوڈے ایک شہری سنجے پرجاپتی کی درخواست مفاد عامہ کی سماعت کررہے تھے جس میں خانگی دواخانہ سیون ہلز اندھیری پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے ان کے بھائی چنٹو کی جانب سے دواخانہ کے بقائے جات ادا نہ کرنے پر اس کا مزید علاج کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں تبصرہ کیا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے اور ایسے ہی حالات سرکاری دواخانہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ یہ غیرانسانی ہے کہ مریضوں کو بقائے جات کی عدم ادائیگی پر روکے رکھا جائے۔ تاہم سیون ہلز نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ پرجاپتی کے بھائی کو آج ہی ڈسچارج کردیا جائے گا۔