ہاسپٹل، دوائوں کا سالانہ بل 55 ملین، ہندوستانیوں کو غربت میں ڈھکیلنے کا موجب

دہلی۔18 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک تحقیقاتی مطالعہ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ 55 ملین ہندوستانیوں میں سے صحت سے متعلق دوائوں کے بل کی ادائیگی کے باعث کم از کم 38 ملین ہندوستانی خط غربت سے نچلی سطح پر پہنچ جاتے ہیں۔ تازہ تحقیق میں جو پبلک ہیلتھ فائونڈیشن آف انڈیا کے ماہرین ہیں، کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا کہ 55 ملین ہندوستانی صرف صحت کی برقراری کے سلسلہ میں دوائوں کے بل کی ادائیگی کے باعث ہر سال وہ سطح غربت کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ یہ رپورٹ برطانوی میڈیکل جرنل میں شائع کی گئی، جسے تین ماہرین نے کیا تھا، حتمی طور پر کہا کہ خطرناک بیماریاں جیسے ’’کینسر‘‘ کے علاج کے لیے انہیں زبردست اور ہوش ربا ’’اخراجات‘‘ برداشت کرنا پڑتا ہے جو ان کی استطاعت سے باہر ہے۔ یہ ہندوستان کا وہ طبقہ ہے جو اوسط ماہانہ آمدنی رکھتا ہے (جسے عرف عام میں سفید پوش طبقہ کہا جاتا ہے)۔ اس مطالعہ کے دوران، ماہرین نے سال 1994تا 2012ء کے قومی بنیادوں پر ’’میڈیکل صارفین‘‘ کے اخراجات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ہیلتھ اکنامسٹس ’’سکتھویل سلواراج‘‘ اور حبیب حسین فاروقی نے حتی کہ ’’سوشیل کنزمپشن : ہیلتھ‘‘ سروے جسے نشینل سیمپل سروے آرگنائزیشن‘‘ نے 2014ء میں کیا تھا، کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ بعدازاں ماہرین نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر متعددی بیماریاں جیسے کینسر، ذیابیطس اور قلبی بیماریوں پر آمدنی کا بڑا حصہ ان جیسی بیماریوں کے علاج اور دوائوں پر خرچ ہوجاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، تحقیقاتی مطالعہ میں یہ بات کہی گئی کہ 55 ملین ہندوستانیوں میں سے جو غربت کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں جو باعث صحت و علاج سے متعلق دوائوں کے بل کے باعث ہوتی ہیں، 38 ملین ’’صرف دوائوں کے بل کی ادائیگی‘‘ کے باعث ’’سطح غربت سے نچلی سطح‘‘ پر پہنچ جاتے ہیں۔ مزید برآں، تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ حکومت اقدام کہ تمام ادویات ’’قومی فہرست برائے ادویہ لازمی‘‘ کے تحت لایا گیا جو ان پر درج قیمتوں کے بحساب تھے، کے باوجود 80 فیصد ’’چلر فروش فارمس‘‘ ان میں شامل نہیں ہے۔ درحقیقت، تمام ادویات ’’ڈرگ پرائز کنٹرول آرڈر 2013‘‘ کے تحت آنے کے بعد سے ادویات کی فروختگی انحطاط پذیر ہوئی۔ ماہرین نے اس بات کی بھی نشان دہی کی کہ ریاستی 3 ہزار ’’جن اوشدھی اسٹورس‘‘ کے باربار مسائل کی وجہ سے ’’ارزاں ادویات‘‘ عام ہندوستانیوں کو دستیاب نہیں ہیں۔ ہندوستان میں عوام صحت عامہ کے نظام کے فقدان کے نتیجہ میں ہندوستانیوں کی اکثریت کو بحالت مجبوری دوائوں پر آمدنی کا بڑا حصہ خرچ کرنے پر مجبور ہے۔