ہائی کورٹ کی تقسیم کا مسئلہ پارلیمنٹ سے رجوع

لوک سبھا میں ٹی آر ایس رکن کی تحریک التواء پیش
حیدرآباد۔/3مارچ، ( سیاست نیوز) ہائی کورٹ کی تقسیم کا مسئلہ آخر کار پارلیمنٹ تک پہنچ گیا۔ ٹی آر ایس کے رکن پارلیمنٹ جتیندر ریڈی نے ہائی کورٹ کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے لوک سبھا میں تحریک التواء پیش کی۔ جتیندر ریڈی نے اس موقع پر کہا کہ ریاست کی تقسیم سے متعلق قانون میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ ہائی کورٹ دونوں ریاستوں کے درمیان تقسیم کردیا جائے گا لیکن تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے 9ماہ گذرنے کے باوجود ابھی تک ہائی کورٹ کی تقسیم مکمل نہیں کی گئی۔ جتیندر ریڈی نے کہا کہ ہائی کورٹ کی عدم تقسیم کے سبب بڑی تعداد میں مقدمات زیر التواء ہیں۔ انہوں نے عدالتوں میں کئے گئے حالیہ تقررات میں تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیوں کی شکایت کی۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیاکہ وہ ہائی کورٹ کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں حیدرآباد اور دیگر اضلاع کے وکلاء ہائی کورٹ کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ چند دن سے احتجاج میں شدت پیدا کرچکے ہیں۔ حیدرآباد، رنگاریڈی، کھمم اور دیگر اضلاع میں تلنگانہ کے وکلاء تحت کی عدالتوں کا بائیکاٹ کررہے ہیں۔ ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر رنگاریڈی کورٹ میں وکلاء کا احتجاج کشیدگی کا سبب بن گیا جب وکلاء نے سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے ججس کو عدالت میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں بارہا وزیر اعظم اور وزیر قانون سے نمائندگی کی ہے۔