ہائی کورٹ کی برہمی کے باوجود آر ٹی سی ملازمین ہڑتال پر اٹل

چیف منسٹر تلنگانہ 40 فیصد فٹمنٹ دینے تیار، یونین قائدین سے آج بات چیت کا امکان
حیدرآباد ۔12 ۔ مئی (این ایس ایس/ سیاست نیوز) ایک ایسے وقت جب ہائیکورٹ نے آر ٹی سی ورکرس اور ملازمین کی ہڑتال پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خاتمہ کی ہدایت کی ہے۔ ریاستی ٹی آر ایس حکومت نے ہڑتالی ملازمین کے اصل مطالبہ فٹ مینٹ الاؤنس میں 43 فیصد اضافہ کے بارے میں ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کے مطالبات کا جائزہ لینے کیلئے ریاستی وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کی قیادت میں تشکیل شدہ کابینی ذیلی کمیٹی نے آج چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے فٹمنٹ الاؤنس کو موجودہ 27 فیصد سے بڑھاکر 37 فیصد کرنے کی سفارش کی ہے۔ حالانکہ ملازمین 43 فیصد فٹمنٹ کے مطالبہ پر اٹل ہیں۔ باور کیا جاتاہے کہ چیف منسٹر نے آر ٹی سی ملازمین کو 39 تا 40 فیصد فٹمنٹ کی پیشکش کرنا چاہتے ہیں۔ واضح رہے کہ ریاستی ہائیکورٹ نے آج آر ٹی سی کے ہڑتالی ملازمین کو اپنی ہڑتال 13 مئی کی صبح تک ختم کردینے کی مہلت دی ہے ۔ کابینی ذیلی کمیٹی نے آر ٹی سی ملازمین کی یونینوں کے قائدین کو چیف منسٹر کے سی آر سے کسی امکانی ملاقات کیلئے تیار رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے ۔ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ نے فٹمنٹ کے اضافہ سے سرکاری خزانہ پر عائد ہونے والے بوجھ کی تفصیلات کا جائزہ لیا ہے اور 37 فیصد فٹمنٹ کی سفارش کی ہے۔ تاہم چیف منسٹر اپنے طورپر اس میں مزید دو تین فیصد اضافہ کے ساتھ ملازمین کو منانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ قبل ازیں ہائیکورٹ نے آج دوپہر آر ٹی سی یونینوں سے سختی کے ساتھ دریافت کیا کہ آیا آپ اپنی ہڑتال سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے مفاد عامہ کے تحت آر ٹی سی ورکرس کو ہڑتال سے دستبرداری کی ہدایت کی تھی اور آندھراپردیش و تلنگانہ ریاستوں کی طرف سے اس مسئلہ پر تشکیل شدہ کابینی ذیلی کمیٹیوں سے بات چیت کا مشورہ دیا تھا۔ عدالت نے دونوں تلگو ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کی خوشگوار یکسوئی کیلئے اقدامات کریں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آر ٹی سی یونینس اپنے موقف پر اٹل ہیں اور واضح کردیا ہے کہ ان کی ہڑتال قانونی ہے کیونکہ وہ اپنے مطالبات کی تائید میں ایک ماہ قبل نوٹس دے چکے تھے۔سیاست نیوز کے مطابق آر ٹی سی یونین قائدین اپنی ہڑتال جاری رکھنے کے فیصلے پر اٹل نظر آتے ہیں۔ ملازمین یونین کے صدر سی ایچ چندر شیکھر ریڈی نے سیاست نیوز سے کہا کہ چونکہ عدالت نے انہیں ایک دن کی مہلت دی ہے ۔ چنانچہ چہارشنبہ کو بھی ہڑتال جاری رہے گی۔ یونین کے جنرل سکریٹری کے پدماکر نے کہا کہ وہ اپنے دلائل ہائی کورٹ میں پیش کرچکے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ یہ ہڑتال کیوں ناگزیر ہوئی ہے۔ 25 ماہ قبل ہم سے تنخواہوں میں اضافہ کا وعدہ کیا گیا تھا جو تاحال پورا نہیں ہوسکا ہے ۔ ہم 43 فیصد فٹمنٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن انتظامیہ فیصد میں کمی پر بضد ہے ۔ چنانچہ ملازمین کیلئے ہڑتال جاری رکھنے کے سوا کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔