ممبئی 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بامبے ہائیکورٹ نے بالی ووڈ اداکار اوم پوری کی جانب سے ایک فیملی کورٹ کے ذریعہ اُن کی بیوی اور کمسن بچے کو ماہانہ 2.90 لاکھ روپئے بطور گزارا دینے کے ایک حکم کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کردی۔ فیملی کورٹ نے اداکار کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنی بیوی نندیتا اور کمسن بچے کے گزارے کے لئے اُنھیں ماہانہ 2.90 لاکھ روپئے ادا کریں۔ مزید برآں کورٹ نے یہ حکم بھی جاری کیا تھا کہ وہ بیٹے کی تعلیم و تربیت و طبی اخراجات کے لئے بھی ماہانہ 1.15 لاکھ روپئے ادا کریں جس پر اوم پوری نے اپنی رضامندی کا اظہار کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اوم پوری نے استدلال پیش کیاکہ فیملی کورٹ کے حکم کے مطابق وہ خطیر رقم کی ادائیگی نہیں کرسکتے کیونکہ مذکورہ رقومات اُن کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ وہ ماہانہ کروڑوں روپئے نہیں کماتے۔ دوسری طرف اوم پوری کی درخواست کی سماعت کرنے والی جسٹس ایم ایس سونک نے اوم پوری کے استدلال کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ فیملی کورٹ کا فیصلہ بالکل واجبی ہے اور فیصلہ سے قبل اوم پوری کی زندگی، کرئیر اور ماہانہ آمدنی کا پوری طرح احاطہ کیا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں کورٹ نے اوم پوری کی جانب سے انکم ریٹرنس کا بھی حوالہ دیا جو 2009 ء تا 2012 ء پر محیط ہے جہاں سالانہ آمدنی 1.53 تا 3.34 کروڑ روپئے بتائی گئی تھی۔
دربار منتقلی: جموں میں دفاتر کی 10نومبر کو باز کشادگی
جموں 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت جموں و کشمیر کا سیول سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر موقوعہ سرینگر 31 اکٹوبر کو بند رہیں گے اور دوبارہ 10 نومبر کو ریاست کے ماہ سرما کے دارالخلافہ جموں میں دوبارہ کھل جائیں گے کیونکہ اِس دوران ’’دربار منتقلی‘‘ کا عمل انجام دیا جائے جو جموں و کشمیر میں صدیوں سے چلی آرہی ہے۔ روایت ہے جس کے مطابق حکومت سرینگر سے چھ ماہ تک اور جموں سے چھ ماہ تک خدمات انجام دیتی ہے۔ دریں اثناء جنرل اڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری ایم اے بخاری نے بتایا کہ سکریٹریٹ اور دیگر دفاتر مکمل طور پر اور کیمپوں والے جموں منتقل ہوجائیں گے جو ریاست کا ماہ سرما کا دارالخلافہ ہے اور 20 نومبر کو اُن کی باز کشادگی عمل میں آئے گی۔