ہائیکورٹ بلڈنگ کی آج صدی تقاریب

سپریم کورٹ کے تین ججس ‘ کارگذار چیف جسٹس تلنگانہ و دیگر کی شرکت
حیدرآباد 19 اپریل ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ ہائیکورٹ کی مثالی عمارت کی صدی تقاریب کا ہفتہ کو انعقاد عمل میں آئیگا ۔ سپریم کورٹ کے تین ججس جسٹس این وی رمنا ‘ جسٹس آئی ناگیشور راو اور جسٹس آر سبھاشن ریڈی کے علاوہ تلنگانہ ہائیکورٹ کے کارگذار چیف جسٹس جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور عدلیہ کے دوسرے عہدیدار ان تقاریب میں شرکت کرینگے ۔ یہ تاریخی عمارت موسی ندی کے جنوبی کنارہ پر واقع ہے اور اسے گلابی گرانائیٹ وغیرہ سے مغل طرز تعمیر میں تقریبا ایک صدی قبل تعمیر کیا گیا تھا ۔ یہ ایک سنگ میل کی اہمیت رکھتی ہے اور اس کا افتتاح 20 اپریل کو ہوا تھا ۔ ایک سرکاری اعلامیہ میں یہ بات بتائی گئی ۔ اس عمارت کا نقشہ اپنے وقف کے معروف انجینئر و آرکٹیکٹ جئے پور کے شنکر لال نے تیار کیا تھا اور اس کا ڈیزائین حیدرآباد کے انجینئر مہر علی فضل نے تیار کیا تھا ۔ یہ عمارت قطب شاہی محلات ہائین محل اور ندی محل کی باقیات پر تعمیر کی گئی ہے ۔ 1956 میں آندھرا پردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی اور آندھرا پردیش ہائیکورٹ موجودہ ہائیکورٹ عمارت حیدرآباد میں 5 نومبر 1956 میں قائم کیا گیا تھا ۔ 31 اگسٹ 2009 کو ہائیکورٹ بلڈنگ کی پہلی منزل پر ججس کی لائبریری میں ایک تباہ کن آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا ۔ اس کے بعد عمارت کی تزئین جدید کا کام کیا گیا اور ججس لاونج کو بھی بہتر بنایا گیا تھا ۔