ہائیکورٹس سے سیاستدانوں کیخلاف مقدمات کی تفصیلات طلب

تمام ریاستوں کو سپریم کورٹ کی ہدایات کا اجرائ، زیرالتوا ء مقدمات کا موقف ظاہر کرنے کا حکم
نئی دہلی ۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج 25 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں اور ہائیکورٹس کو ہدایات جاری کردیں کہ اس کے اجلاس پر ’’مکمل اور جامع معلومات‘‘ سیاستدانوں کے خلاف زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات جو ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف ہوں، پیش کی جائیں۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز زیرانتظام علاقوں اور وکلائے استغاثہ اعلیٰ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ فی الحال زیرالتواء تمام مقدمات کی درست تعداد اور دیگر عدالتوں سے متعلقہ ہائیکورٹ کو منتقل کردہ زیرالتواء مقدمات کی مکمل تفصیلات خاص طور پر اگر مقدمات ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف ہوں، پیش کی جائیں۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس نوین سنہا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے نوٹ کیاکہ 12 خصوصی عدالتوں11 ریاستوں میں قائم کی گئی ہیں اور انہوں نے 10 اکٹوبر سے قبل جو مقدمہ کی سماعت کی آئندہ تاریخ ہے، ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں سے یہ تفصیلات طلب کی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ 25 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں بشمول گجرات، راجستھان، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، اروناچل پردیش، پنجاب اور چندی گڑھ میں معلومات ان احکام کی تعمیل میں ہنوز فراہم نہیں کی ہیں جبکہ گذشتہ سال یکم ؍ نومبر آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ بعدازاں اس میں توسیع دے کر جاریہ سال 30 اگست تک تاریخ کا تعین کیا گیا تھا۔ حکم نامہ میں سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ہم مذکورہ بالا 25 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کی چیف سکریٹریوں اور ہائیکورٹ کے رجسٹرار جنرل کو ہدایت دیتے ہیں کہ اگر متعلقہ ریاستیں اور مرکزی زیرانتظام علاقے مکمل اور جامع معلومات یکم ؍ نومبر 2017ء اور 21 اگست 2018ء کے بعد بھی داخل کرنے سے قاصر رہی ہیں۔ فوری یہ معلومات فراہم کریں۔ واضح طور پر دو عہدیداروں کو عدالت ہدایت دی۔ مستقل طور پر زیرالتواء مقدمات کی تفصیلات خاص طور پر خصوصی عدالتوں سے منتقلہ مقدموں کی تفصیلات فوری داخل کی جانی چاہئیں۔ بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان اطلاعات کی عدم وصولی کی صورت میں عدالتوں کو ان احکام کی تعمیل کی نگرانی کرنی ہوگی اور ہر مقدمہ کی قطعی تاریخ سماعت مقرر کرنی ہوگی۔ سینئر قانون داں ساجن پوویا نے درخواست گذاروں کی جانب سے اور قانون داں کمار اپادھیائے نے اس حلفنامہ کا حوالہ دیا جو محکمہ نے قبل ازیں داخل کیا تھا اور 12 خصوصی عدالتیں 11 ریاستوں میں قائم کی گئی تھی لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر رہیں کہ خصوصی سے کتنے مقدمے متعلقہ ہائیکورٹ کو وصول ہوئے ہیں۔ محکمہ انصاف نے اپنے تازہ ترین حلفنامہ میں کہا تھا کہ ہر خصوصی عدالت کو آندھراپردیش، بہار، کیرالا، کرناٹک، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، تلنگانہ، ٹاملناڈو، یوپی اور مغربی بنگال میں دو ایسی عدالتیں کرناٹک کے دارالحکومت اور مرکز زیرانتظام علاقہ دہلی میں قائم کی ہیں۔ حلفنامہ میں مزید کہا گیا تھا کہ باقی ہائیکورٹس کی معلومات ہنوز وصول نہیں ہوئی ہیں۔ حلفنامہ میں کہا گیا ہیکہ 12 خصوصی عدالتوں میں سے 6 سیشن عدالتی سطح کی 5 مجسٹریٹ کی سطح کی اور ٹاملناڈو میں عدالتوں کی سطح کا اظہار نہیں کیا گیا۔ فوجداری مقدمات ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کے خلاف 65 سے زیادہ ہیں۔