واشنگٹن۔16اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور امریکہ کے مابین باہمی روابط صرف حکومتوں کے مابین ہی نہیں بلکہ عوام کے درمیان بھی پائے جاتے ہیں اور اس وقت یہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہیں۔ وزیرفینانس ارون جیٹلی نے ہندوستانی سفارتخانے کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیہ کے موقع پر یہ ریمارک کیا ۔ اس پروگرام میں اوباما انتظامیہ کے سینئر عہدیدار اور سینئر وزراء بھی شریک تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط کو عوام کی وسیع تر تائید و حمایت حاصل ہے ۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ سرکردہ عہدیداروں کی اس پروگرام میں شرکت ہندوستان ۔ امریکہ تعلقات کے نئے دور کا مظہر ہے ۔ اس تقریب میں کئی سرکردہ عہدیداران بشمول تین کابینی درجہ کے وزراء موجود تھے اور ایسا بہت کم ہوا کرتا ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ ہندوستان اس وقت بڑے پیمانے پرتبدیلی کے مرحلے سے گذر رہا ہے ۔یہ ایسی تبدیلی ہے جہاں ہم اپنا رول محسوس کرسکتے ہیں ۔ یہ رول معیشت کو مستحکم بنانے اور ماضی کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے معاملہ میں ہوگا ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت اپنے عوام کی زیادہ سے زیادہ اور موثر انداز میں خدمت کرسکے ۔
انہوں نے کہا کہ ھند ۔ امریکہ پارٹنرشپ کئی شعبوں میں وسعت اختیار کرگئی ہے ۔ارون جیٹلی نے ایک علحدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان شرح ترقی کو 9 تا 10فیصد تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ کانفرنس ’’ھند۔ امریکہ تجارتی پارٹنرشپ میں وسعت : مودی حکومت کا پہلا سال ‘‘ کے زیرعنوان منعقد کی گئی تھی ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ ہندوستان کی شرح ترقی کو دو ہندسی عدد تک پہنچانے کا نشانہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ ‘ چھ یا سات فیصد ترقی ہمارا نشانہ نہیں ہے بلکہ ہم ایک ایسے چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں جہاں شرح ترقی کو دس فیصد تک لے جایا جاسکے ۔ امریکی تھنک ٹینک سنٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹیڈیز نے یہ کانفرنس منعقد کی ۔ انہوں نے نئی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی پہل اور مختلف اقدامات جیسے ریاستوں کو مزید مالی اختیارات ‘ انفراسٹرکچر شعبہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ اور مینوفیکچرنگ شعبہ پر توجہ کا ذکر کیا ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ ہم نے جو روڈ میاپ تیار کیا ہے اس میں سرمایہ کاری کیلئے دروازے کھلے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس ‘ ڈیفنس ‘ ریلویز اور رئیل اسٹیٹ شعبوں کو سرمایہ کاری کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب اندرون ملک اور بین الاقوامی سرمایہ کار ہمارے پاس رقم مشغول کریں گے اس کے بعد دوسرا مرحلہ ایک ایسا سسٹم تیار کرنا ہوگا جہاں ہندوستان میںسرمایہ کاری کیلئے ترغیبات ملیں گی ۔