گیاس کی قیمت کی نئی پالیسی پی ایس سی سے ہم آہنگ نہیں

نئی دہلی 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) قدرتی گیس کی قیمتوں میں توقع سے کم اضافہ کو حکومت کے ساتھ معاہدہ سے غیر متعلق قرار دیتے ہوئے جس پر حکومت اور گیاس و تیل تلاش کرنے والوں نے دستخط کئے تھے، لندن کی ہارڈی آئیل کمپنی نے جو ریلائنس انڈسٹریز اور بھارت پٹرولیم کی شراکت دار ہے اور کے جی طاس میں گیس تلاش کررہی ہے، آج کہاکہ جاریہ ماہ حکومت نے گیس کی نئی قیمت 5.61 امریکی ڈالر فی یونٹ مقرر کی ہے۔ یہ شرح سابقہ یو پی اے حکومت کی منظورہ شرح سے تقریباً 40 فیصد کم ہے۔ حالانکہ سابق حکومت کی شرح پر عمل آوری نہیں کی گئی تھی۔ تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیاں نئی شرح پر ناراض ہیں جو سابق قیمت 4.2 امریکی ڈالر فی 10 لاکھ برطانوی تھرمل یونٹ سے زیادہ ہے اور اوسطاً فاضل گیس کی معیشتوں جیسے امریکہ، روس اور کینیڈا کی طے شدہ قیمت سے کم ہے۔ یہ پیداوار کی لاگت سے بھی اور گہرے سمندر میں گیس کی دریافت کے خرچ کو پیش نظر رکھتے ہوئے کم ہے۔ نئی گھریلو گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لئے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں وہ بازاروں کو سربراہ کی جانے والی گیس پر ایک بوجھ ہیں۔ جس کے نتیجہ میں درآمد شدہ گیس کی موجودہ قیمتیں ہندوستان میں دریافت کی جانے والی گیس کی قیمت سے کم ہوجاتی ہیں۔ گیس کی سربراہی میں قلت کے نتیجہ میں گیس کی قیمت کے تعین کی پالیسی توقعات بہ نسبت کم ہے اور پیداوار، شراکت داری معاہدہ کی دفعات سے ہم آہنگ نہیں ہے جس کے تحت کنٹراکٹر کو یہ بات یقینی بنانا پڑتا ہے کہ گیس کی قیمت کا تعین ایک علاقائی مسابقتی دریافت کے عمل کی قیمت کے مطابق مقرر کی جائے۔ صدرنشین السڈیر لاک نے کہاکہ کے جی ۔ بی ڈبلیو این ۔ 2003/1(D3) کرشنا گوداوری طاس خلیج بنگال میں 10 فیصد سود عائد کرتی ہے۔ ریلائنس انڈسٹریز 60 فیصد حصص کی مالک ہے اور اس بلاک کی آپریٹر ہے جہاں اب تک 4 مقامات پر گیس دریافت کی گئی ہے۔ بھارت پٹرولیم باقی 30 فیصد حصص کی مالک ہے۔