مسلمانوں کی آبادی اور اردو بولنے والوں کی تعداد کا اندازہ بھی ممکن
حیدرآباد ۔ /17 اگست (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ہونے والے سروے کیلئے فارمس کی تقسیم کا عمل شروع ہوچکا ہے ۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں آج شمار کنندگان کی جانب سے فارمس تقسیم کئے گئے ہیں اور شمار کنندگان میں جن مکانات تک فارم پہونچائے ہیں ان پر نشان لگاتے ہوئے عمل کے آغاز سے مطلع کردیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے کروائے جانے والے اس سروے میں حصہ لیتے ہوئے مسلمان تلنگانہ میں اپنی عددی طاقت کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ان کے معاشی و سماجی موقف کے متعلق حکومت کی آگہی مستقبل میں کئی فوائد کا باعث بن سکتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے مذکورہ سروے مسلمانوں کی معاشی پسماندگی کے اظہار اور انہیں فراہم کئے جانے والے تحفظات کیلئے جواز کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ سروے میں تمام تفصیلات کے ساتھ ساتھ مادری زبان اور دیگر معاشی حالات کے متعلق تفصیلات دریافت کی جارہی ہیں ۔ ان تفصیلات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی مستقبل میں کئی نقصانات کا باعث بن سکتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے تیار کی جانے والی فلاحی و ترقیاتی اسکیمات میں حصہ لینے میں یہ سروے کافی معاون ثابت ہونے کی توقع ہے ۔ علاوہ ازیں بجٹ کی تخصیص کے علاوہ اس میں اضافہ کیلئے بھی یہ سروے حکومت کے محکمہ جات کی جانب سے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ کمشنر بلدیہ مسٹر سومیش کمار نے آج دیگر عہدیداروں کے ہمراہ شہر کے بعض علاقوں میں عوام سے ملاقات کرتے ہوئے سروے کی اہمیت سے انہیں واقف کروایا ۔ اقلیتی علاقوں بالخصوص مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس سروے کا حصہ بنتے ہوئے نہ صرف اپنے وجود کا احساس دلائیں بلکہ مستقبل میں حصول روزگار کیلئے حکومت کی اسکیمات سے مستفید ہونے کے مواقع پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں ۔ اسی طرح مسلمان بطور مادری زبان اردو درج کرواتے ہوئے ریاست تلنگانہ میں اردو کے جائز مقام کے حصول میں اپنی کوشش کریں ۔ /19 اگست کو ہورہے سروے میں صدر خاندان کے گھر میں ہونا لازمی ہے چونکہ سروے کے فارم میں صدر خاندان کی دستخط کی جگہ فراہم کی گئی ہے ۔ اسی طرح درکار دستاویزات بھی اگر ساتھ رکھیں جائیں تو شمار کنندگان ان کا جائزہ لیتے ہوئے تفصیلات درج کرلیں گے ۔ عدالت نے سروے کے متعلق جاری کردہ احکامات میں یہ واضح کیا ہے کہ معاشی موقف کے متعلق تفصیلات کی فراہمی درج کروانے والوں کا اختیاری معاملہ ہے ۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقی صورتحال سے آگاہ کرواتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ صاف و شفاف حکمرانی کی راہ ہموار ہو ۔