گھریلو تنازعات کی یکسوئی کیلئے حج ہاؤز میں کونسلنگ سنٹر کا قیام

حیدرآباد۔ 21 مئی (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ شہر حیدرآباد و دیگر علاقوں میں غریب چھوٹے بیوپاریوں کو سود پر رقومات حاصل کرنے کی لعنت سے چھٹکارہ دلانے کیلئے ایک جامع اسکیم مرتب کررہی ہے تاکہ غریب چھوٹے بیوپاریوں کو معمولی نوعیت کی قرض رقومات فراہم کرنے کو یقینی بنایا جاسکے۔ شادی کے بعد مختلف گھریلو تنازعات کو شریعت کے دائرہ میں کونسلنگ کے ذریعہ یکسوئی کیلئے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ حج جناب ای اسمٰعیل کی قیادت میں چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جارہی ہے اور یہ چھ رکنی کمیٹی یکم جون سے حج ہاؤز کی عمارت میں اپنی کارکردگی کا آغاز کردے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمد محمود علی نے آج ایک پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی۔ سید عمر جلیل اسپیشل سیکریٹری اقلیتی بہبود محمد جلال الدین اکبر ڈائریکٹر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ ڈاکٹر ایس اے شکور، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی و ڈائریکٹر سیکریٹری اُردو اکیڈیمی ریاست تلنگانہ اور سید ولایت حسین جنرل مینیجر تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن بھی اس موقع پر موجود تھے۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ ملک بھر میں اپنی نوعیت کی منفرد و مثالی اسکیمات کا آغاز کرکے اقلیتی طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے موثر اقدامات کررہی ہے۔ دو دن قبل ہی ذہین غریب طلباء کو بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے ’’اوورسیز اسٹیڈیز اسکالرشپ اسکیم‘‘ کا آغاز کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ علاوہ ازیں ریاست تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد میں طلباء و طالبات کو خانگی مدارس و کالیجس وغیرہ میں اُردو زبان کو بطور زبان اول اختیاری مضمون حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے جی او جاری کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ اوورسیز اسٹیڈیز اسکالرشپ اسکیم کے تحت بیرونی ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو کم از کم 2 لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 10 لاکھ روپئے، گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ جناب محمود علی نے کہا کہ یہ رقم قرض نہیں ہوگی۔ ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں میں پائی جانے والی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے ہر ضلع میں اقلیتی طلباء کیلئے ایک اقامتی اسکول کے علاوہ ایک علیحدہ ہاسٹل تعمیر کیا جائے گا۔ ہر ایک کی تعمیر کیلئے 14 کروڑ روپئے فراہم کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں جملہ 140 کروڑ روپیوں کے منجملہ 75 کروڑ روپئے جاری کردیئے گئے۔ جبکہ ہر ایک اقامتی اسکول میں طلباء کی تعداد 500 تک رکھنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتی طلباء کو پہلی جماعت تا پانچویں جماعت فی طالب علم 1000 روپئے اور چھٹویں جماعت تا دسویں جماعت فی طالب علم 5 ہزار روپئے پری میٹرک اسکالرشپس فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جس کیلئے حکومت 75 کروڑ روپئے فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اقلیتی طلباء کیلئے ہر ضلع میں ایک پوسٹ میٹرک ہاسٹل تعمیر کروا رہی ہے اور ہر ایک ہاسٹل کیلئے 2.20 کروڑ روپئے کے حساب سے جملہ 22 کروڑ روپئے منظور کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی طلباء کے مستقبل کو سنوارنے اور انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے ’’کیریئر کونسلنگ‘‘ سنٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کو بھی اولین ترجیح دی جارہی ہے۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ اقلیتی بے روزگار افراد کیلئے ایک ہزار آٹوز 70 ہزار روپئے سبسڈی اور 70 ہزار روپئے بینک لون کے ذریعہ فراہم کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں خواتین کو چھ ماہ تا ایک سال ٹیلرنگ کی تربیت دیتے ہوئے انہیں مشین فراہم کیا جائے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی شروع کردہ شادی مبارک اسکیم کے تحت جملہ 13,903 درخواستیں وصول ہوئیں جن کے منجملہ 9,701 درخواستوں کی منظوری دیتے ہوئے 45 کروڑ روپئے سے زائد رقم درخواست گذاروں کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ علاوہ ازیں شادی مبارک اسکیم میں بعض مسائل پائے جارہے تھے۔ بالخصوص لڑکی کا صداقت نامہ تاریخ پیدائش لازمی قرار دیا گیا تھا، لیکن چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اس لزوم سے بھی استثنیٰ دینے کا واضح تیقن دیا ہے۔ اُردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے عمل آوری کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ اس کے لئے اُردو ٹرانسلیٹر کے تقررات کرنے کی کوشش کا آغاز کردیا گیا۔ تلنگانہ ریاست میں آئی ٹی آئیز (1715) کو از سرنو کارکرد بنانے کے ساتھ ساتھ سیٹ ون کی کارکردگی میں مزید بہتری پیدا کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ ان اداروں میں مناسب تربیت حاصل کرکے بیروزگار نوجوان روزگار کے مواقع حاصل کرسکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حج ہاؤز سے متصل کمرشیل کامپلیکس کی تعمیری اجازت فیس جی ایچ ایم بی سی کو قابل ادا تھی لیکن چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جی ایچ ایم سی کو قابل ادا 4.6 کروڑ روپئے کی ادائیگی سے استثنیٰ دیتے ہوئے احکامات جاری کئے۔