گٹکھے کی فروختگی پر امتناع کے باوجود شہر و مضافات میں ذخیرہ

فروختگی میں بھی تاجرین کی دلیری، ویجلنس اور فوڈ انسپکٹرس اور پولیس پر سوالیہ نشان
حیدرآبا۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد حدود میں ان دنوں پابندی کے باوجود بھی نشہ آور اشیاء کی فروخت کا چلن زور پکڑتا جارہا ہے۔حکومت کی جانب سے گٹکھے کی فروخت پر پابندی کے باوجود بھی شہر کے نواحی علاقوں میں گٹکھے کے گودام اور خام اشیاء کے ذخیرے منظر عام پر آرہے ہیں۔ سرکاری محکموں کی مجرمانہ غفلت ان اشیاء کی فروخت میں معاون و مددگار ثابت ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے گٹکھے پر پابندی عائد کرنے کے بعد پان مسالہ متعارف کیا گیا اور اب اس کی آڑ میں گٹکھے دلیری سے فروخت کئے جارہے ہیں۔ پان مسالہ تو محض دکھاوے کیلئے اور اصل گٹکھے دوسرے انداز میں فروخت کرنے کے الزامات بھی مارکٹ کے دکانداروں پر پائے جاتے ہیں۔ تاہم ویجلینس اور فوڈ انسپکٹر کے اقدامات و کارروائی رسمی انداز کی ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں شہر کے نواحی علاقوں کاٹے دھن، کوکٹ پلی اور ایل بی نگر حدود میں سائبر آباد ٹاسک فورس اور اسپیشل آپریشن ٹیموں نے دھاوا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوز خام اشیاء اور گٹکھے گوداموں کو بے نقاب کردیا اور بڑے پیمانے پر کارروائی انجام دی تاہم یہ کارروائی بھی صرف گودام انچارج اور سوپر وائزر و مزدوروں تک ہی محدود رہی۔ تاہم اصل افراد و مالکین کا تاحال کوئی پتہ نہ چل سکا۔ اس کارروائی پر بھی شبہات پائے جاتے ہیں کہ آیا اصل مالکین اتنی بڑی رقم کا کاروبار کرنے والے کون ہیں۔ صرف کاٹے دھن اور شاستری پورم میں بے نقاب کئے گئے گودام میں تقریباً 45لاکھ روپئے کا سامان ضبط کیا گیا اور کارروائی مزید آگے نہیں بڑھ نہیں پائی۔ ایسی کارروائیوں پر چھوٹے تاجرین اور دکاندار پریشان رہتے ہیں چونکہ سخت کارروائی صرف ان کے خلاف کی جاتی ہے جبکہ اشیاء تیار کرنے والے اور ہول سیل میں فروخت کرنے والے بچ جاتے ہیں۔چلر فروخت میں پرانا یا نیا کے انداز میں فروخت ہونے والا گٹکھا نوجوان نسل کو کمزور کرنے میں کسی قسم کی کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ پابندی کے باوجود بھی گٹکھے کی فروخت میں کمی نہیں ہوئی بلکہ قیمت میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاست میں گٹکھے کی فروخت پر پابندی کے بعد ملک کے بڑے شہروں ممبئی، چینائی، بنگلور اور ویزاگ سے گٹکھے شہر منتقل کئے جارہے ہیں اور اس کی منتقلی کیلئے خانگی ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ پرائیویٹ بس آپریٹرس گڈس وہیکلس کے ذریعہ سامان شہر کے کے نواحی علاقوں میں ذخیرہ اندوز کیا جارہا ہے اور وہاں سے ہول سیل کے ذریعہ سامان مارکٹ میں پھیلایا جارہا ہے اور اس گٹکھے کی شہر منتقلی اور ریٹیل مارکٹ میں فروخت کا کاروبار صرف چند افراد تک ہی محدود ہے جبکہ اس کاروبار میں اکثر نئے چہروں کو اجازت نہیں رہتی۔ 10تا12اقسام کی اشیاء کی منتقلی اب نئے راستے براہ اضلاع میدک اور نلگنڈہ سے بھی شروع ہوگئی ہے۔ ایک شئے پر پابندی کے باوجود ویجلنس اور فوڈ انسپکٹر کی کارروائی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں اور ان کی اس مجرمانہ غفلت کے سبب پولیس کی ٹیمیں ایسے واقعات کو منظر عام پر لارہی ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔ متعلقہ محکمہ ویجلنس اور فوڈ انسپکٹر ان کے خلاف کارروائی نہیں کرنا چاہتے جو ان محکموں پر الزامات کو مضبوط کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اس مہلک شئے کے چلن پر پابندی کو یقینی بناتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرے۔