نئی دہلی ، 12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) متحدہ اپوزیشن نے آج لوک سبھا میں بی جے پی رکن ساکشی مہاراج کو اظہار تاسف اور مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھورام گوڈسے کو محب وطن قرار دینے سے متعلق اپنے ریمارکس سے دستبرداری پر مجبور کردیا۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی بھی اپوزیشن ممبرس میں شامل ہوئیں جنھوں نے حکومت اور اس بی جے پی رکن کے خلاف نعرے بلند کئے۔ جب اسپیکر سمترا مہاجن نے 13 ڈسمبر 2001ء کے پارلیمنٹ پر حملے کا تذکرہ کیا، اس کے فوری بعد کانگریس اور آر جے ڈی کے ارکان نے بی جے پی ایم کے متنازعہ ریمارکس کا مسئلہ چھیڑا۔ جب اسپیکر نے مطلع کیا کہ وہ اس مسئلہ کو اٹھانے کیلئے تحریک التوا اور وقفہ ٔ سوالات کی معطلی کی نوٹسوں کو مسترد کرچکی ہیں، کانگریس، آر جے ڈی، ٹی ایم سی اور بائیں بازو کے اپوزیشن ارکان نے وسط میں پہنچ کر حکومت اور ایوان میں موجود مہاراج کے خلاف نعرے لگائے۔ ایسے نعروں کے درمیان کہ ’’ہے رام، ہے رام: گاندھی کے ہتیارے کو دیا سمّان‘‘ اور ’’دوشی سرکار ہائے ہائے‘‘، ایوان نے وقفہ سوالات شروع کردیا۔ جب شوروغل جاری رہا تو اسپیکر نے ایوان کو 10 منٹ کیلئے ملتوی کیا۔ تاہم ایوان کے دوبارہ اجتماع پربھی اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا تو پہلے وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے قاتل کی مدح سرائی کوئی بھی قبول نہیں کرسکتا اور وضاحت کی کہ حکومت اور بی جے پی رکن پارلیمان موصوف کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن کے ارکان وزیر موصوف کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ اس صورتحال سے نالاں اسپیکر نے کہا کہ کل سے وہ ابتدائی پانچ منٹ معذرت خواہی کیلئے رکھ چھوڑیں گی۔ آخرکار ساکشی مہاراج نے کہا کہ وہ مہاتما اور اس ایوان کا احترام کرتے ہیں۔ ’’میں میرے ریمارکس سے دستبردار ہوتا ہوں۔ مگر میرے دوست اراکین کے پاس کوئی مسئلہ نہیں … گوڈسے نے گاندھی کا طویل عرصہ قبل قتل کیا تھا لیکن آپ نے مہاتما کے نظریہ کو 1984ء میں مخالف سکھ فسادات کے دوران قتل کیا ہے۔‘‘