گولکنڈہ میں جشن آزادی کی تقاریب ، قدیم تہذیبی ورثہ کے تحفظ کے اقدامات

حیدرآباد۔/13اگسٹ، ( سیاست نیوز) ’’خدایا ہمارے علاقے میں بھی چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کوئی پروگرام رکھیں۔‘‘ قلعہ گولکنڈہ میں جشن آزادی تقاریب کے سلسلہ میں جاری انتظامات کو دیکھتے ہوئے دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے مختلف علاقوں کے عوام سرد آہیں بھرتے ہوئے یہ جملہ ادا کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ چونکہ گولکنڈہ تک پہنچنے والی تقریباً تمام سڑکوں کو جس انداز سے ترقی دی گئی ہے انہیں دیکھنے کے بعد مقامی گولکنڈہ کے عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ 20برسوں میں اس طرح کی ترقی کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ چونکہ ٹولی چوکی سے گولکنڈہ جانے والی اہم سڑک کی مکمل تعمیر ہوئے تقریباً 12سال کا عرصہ گذر چکا ہے اور گذشتہ 12برسوں کے دوران اس اہم ترین سڑک کو صرف مرمت کے ذریعہ کام چلایا جارہا تھا جبکہ یہ اہم سڑک نہ صرف قلعہ گولکنڈہ بلکہ گنبدانِ قطب شاہی سے بھی ہوکر گذرتی ہے۔قلعہ گولکنڈہ کے اطراف واکناف جاری ترقیاتی کاموں سے عوام میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے کہ ان کے علاقے کی عظیم الشان ترقی نمایاں طور پر نظر آنے لگی ہے۔ حیدرآباد کے پرانے شہر سے زیادہ قدیم شہر کا یہ حصہ جوکہ قطب شاہوں کے دور کا ہے اس کی تاریخی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن گذشتہ حکومتوں کے دوران اس علاقے کو جس طرح سے نظرانداز کیا گیا

اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی لیکن چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تاریخی گولکنڈہ میں جشن آزادی تقاریب کے انعقاد اور پرچم کشائی کا فیصلہ کرتے ہوئے نہ صرف گولکنڈہ کے تہذیبی قدیم ورثے کے تحفظ کے اقدامات کا آغاز کیا ہے بلکہ اطراف واکناف کے علاقوں میں اس عمل سے زبردست ترقیاتی کام انجام دیئے جانے لگے ہیں۔ گولکنڈہ کی سیاحت کیلئے سیاحوں کی بڑی تعداد پہنچتی ہے جن میں بیرونی سیاح بھی شامل ہیں لیکن اس سڑک پر توجہ صرف اس وقت ہوتی ہے جب شہر میں کسی عالمی کانفرنس یا سمٹ کا انعقاد ہوتا ہے اور بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیتوں کے پروگرام میں گولکنڈہ کی سیاحت شامل ہوتی ہے۔ لیکن اب جبکہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس تاریخی ورثے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جشن آزادی تقاریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تو نہ صرف اطراف واکناف کے عوام میں خوشی کی لہر پائی جاتی ہے بلکہ شہر کی دیگر تاریخی عمارتوں اور تہذیبی ورثے کے اطراف و اکناف رہنے والے شہریوں میں بھی اُمید کی کرن پیدا ہوئی ہے اور وہ اس اُمید کا اظہار کررہے ہیں کہ حکومت تلنگانہ شہر کے تہذیبی و تاریخی ورثے کے تحفظ کیلئے اس طرح کے مزید اقدامات کرتے ہوئے ان عمارتوں کے اطراف واکناف کے علاقوں میں بھی ترقیاتی کام انجام دے گی۔ گولکنڈہ پہنچنے والی سڑک جو کبھی اہم سڑک تصور نہیں کی جاتی تھی

اور گذشتہ 50برسوں کے دوران اس کی اہمیت کو مزید نقصان پہنچایا گیا لیکن حکومت تلنگانہ کے فیصلہ کے بعد یہ سڑک اب انتہائی اہم اور سیکورٹی کے حامل اعلیٰ عہدیداروں و منتخبہ عوامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے نمائندوں کے استعمال والی سڑک بن چکی ہے اور اس سڑک سے تقریباً تمام تر رکاوٹیں ہٹادی گئی ہیں۔ ٹولی چوکی تا قلعہ گولکنڈہ پہنچنے والی سڑک پر جہاں تقریباً 35اسپیڈ بریکرس ہوا کرتے تھے وہاں پر اب ایک بھی اسپیڈ بریکر باقی نہیں رہا اور انتہائی صاف و شفاف سڑک کی تعمیر کے بعد علاقے کی ترقی واضح طور نظر آرہی ہے۔حکومت نے قلعہ گولکنڈہ میں جشن آزادی کے اہتمام کا فیصلہ کرتے ہوئے اس تقریب کیلئے 45لاکھ روپئے منظور کئے ہیں اور ان 45لاکھ روپیوں میں جو ترقیاتی کام واضح نظر آرہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں چیف منسٹر اور اعلیٰ عہدیداروں کے پہنچنے کا یقین ہوتا ہے اور سرکاری پروگرام منعقد ہوتے ہیں وہاں کم اخراجات کے باوجود بہترین تعمیری و ترقیاتی کام انجام دیئے جاتے ہیں۔ریاست تلنگانہ میں پہلا جشن آزادی قلعہ گولکنڈہ میں منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح اگر حکومت کی جانب سے دیگر تاریخی مقامات پر دیگر تقاریب منعقد کرنے کے اعلانات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں نہ صرف تہذیبی ورثے کا تحفظ ہوگا بلکہ اطراف و اکناف کے علاقوں کی بہتر ترقی میں بھی یہ اقدامات معاون ثابت ہوں گے۔