پانچ ریاستوں میں سرگرم شدت پسند ہندو گروپ بے نقاب، واگھمارے مشتبہ قاتل
بنگلور۔5 جون (سیاست ڈاٹ کام) کرناٹک میں سماجی جہد کارا رو صحیفہ نگار گوری لنکیش کے قتل کے سنسنی خیز واقعہ کی تحقیقات کرنے والی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے آج کہا کہ تاحال گرفتار شدہ چھ مشتبہ افراد میں آخری فرد پرسورام واگھمارے ہی ان کا اصل قاتل ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ گوری لنکیش کے علاوہ دیگر دو معقولیت پسند جہد کاروں گوئند پنسارے اور ایم ایم کلبرگی کا ایک ہی ہتھیار سے قتل کیا گیا تھا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے اس سینئر عہدیدار نے اپنا نام ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’واگھمارے ہی لنکیش پر گولی چلایا تھا۔ فارنسک رپورٹ سے توثیق ہوگئی ہے کہ (معقولیت پسند جہدکاروں) گوئند پنسارے، ایم ایم کلبرگی اور لنکیش کا ایک ہی ہتھیار (پستول) سے قتل کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہتھیار کا ہنوز پتہ نہیں چلا ہے۔ فارنسک امتحان اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ پستول اگرچہ ہنوز برآمد نہیں ہوسکی ہے لیکن بلٹ کے پچھلے حصہ پر پستول کے ہتھوڑے کے واضح نشان پائے گئے ہیں۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ کم سے کم پانچ ریاستوں پر محیط یہ تنظیم مختلف شدت پسند گروپوں پر مشتمل ہے۔ اس میں تقریباً 60 ارکان ہیں لیکن اس تنظیم کا کوئی نام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ مدھیہ پردیش، گجرات، مہاراشٹرا، گوا اور کرناٹک میں اس ٹولی کا نٹورک ہے۔ تاہم اترپردیش سے اس کے کسی ربط کا ہنوز کوئی سراغ دستیاب نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروپ اگرچہ مہاراشٹرا کے ہندوجا گروتی سمیتی اور سناتن سنستھا جیسی سخت گیرہندوتوا تنظیموں سے کارکنوں کی بھرتیاں کرتا ہے لیکن یہ تنظیمیں ان ہلاکتوں کیلئے براہ راست ذمہ دار نہیں ہیں۔ ان دونوں تنظیموں نے ہلاکتوں میں اپنے کسی رول کی تردید کی ہے۔ سجیت کمار عرف پروین اس ٹولی کے لیے بھرتیاں کیا کرتا تھا اور اس سے پوچھ گچھ کے دوران ہی یہ نٹورک بے نقاب ہوا۔ عہدیدار نے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو شبہ ہے کہ 5 ستمبر کو بنگلورو میں گوری لنکیش کے قتل کے وقت کم سے کم تین دیگر افراد بھی موجود تھے، اس قیاس کو تقویت حاصل ہوگئی ہے کہ واگھمارے ہی گوری لنکیش کا اصل قاتل ہوسکتا ہے کیوں کہ لنکیش کی رہائش گاہ کے سی سی ٹی وی کیمرہ سے حاصل کردہ عکس اس کی جسمانی حالت اور چہرہ سے مشابہت رکھتے ہیں۔ اس افسر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ’’یہ ٹولی اس وقت پکڑی گئی جب وہ (کنڑا مصنف) پروفیسر کے ایس بھگوان کو ہلاک کرنے کے منصوبہ میں آخری مرحلہ میں پہنچ چکی تھی۔