نریندر مودی کے فسطائی اقدامات ناقابل برداشت ، کے سی آر کا ردعمل ، ہدایات ناقابل قبول ، وزارت داخلہ کو چیف سکریٹری کا جوابی مکتوب
حیدرآباد۔/9اگسٹ، ( سیاست نیوز) حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال سے نمٹنے کے مسئلہ پر گورنر کو زائد اختیارات سے متعلق مرکزی حکومت کے فیصلہ نے تلنگانہ حکومت اور مرکز میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ تلنگانہ حکومت مرکز کے اس فیصلہ کے خلاف قانونی لڑائی کے علاوہ عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن کی تیاری کررہی ہے۔ حیدرآباد چونکہ 10برسوں تک تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا مشترکہ دارالحکومت رہے گا لہذا تنظیم جدید بل 2014 کے تحت مرکزی حکومت گورنر کو زائد اختیارات کے حق میں ہے۔ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت نے تلنگانہ حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا جس میں گورنر کو زائد اختیارات کی وضاحت کی گئی۔ اس مکتوب کے ملتے ہی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت احتجاج کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ مرکز کا یہ فیصلہ غیردستوری اور ہندوستان کے فیڈرل سسٹم کے خلاف ہے۔ تلنگانہ حکومت نے مرکز کے مکتوب کی وصولی کے دو گھنٹے میں ہی چیف سکریٹری راجیو شرما کے ذریعہ جوابی مکتوب روانہ کیا اور مرکز کی ہدایات کو نامنظور کردیا۔ تلنگانہ حکومت اس مسئلہ پر مرکزی حکومت کو تفصیلی جواب روانہ کرنے کی تیاری کررہی ہے اس کے علاوہ اس مسئلہ کو عدالت سے رجوع کرنے کیلئے ماہرین قانون سے مشاورت کا آغاز کردیا گیا۔ مرکزی وزارت داخلہ کو چیف سکریٹری تلنگانہ کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب میں گورنر کو زائد اختیارات کی مخالفت کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے چار صفحات پر مشتمل ایک مکتوب روانہ کیا جس میں گورنر کو زائد اختیارات کی صراحت کی گئی اور تلنگانہ حکومت کیلئے رہمنایانہ خطوط جاری کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر کو 13 زائد اختیارات کی وضاحت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ان کی پابندی کرے۔ تلنگانہ حکومت مرکز کے اس فیصلہ کو عوامی منتخبہ حکومت کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش سے تعبیر کررہی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ان کی حکومت وزیر اعظم نریندر مودی کے فاشسٹ اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔ مرکز کے فیصلہ کے مطابق مشترکہ دارالحکومت میں گورنر کو حاصل زائد اختیارات میں امن و ضبط کی برقراری سے متعلق اُمور شامل ہیں۔ تلنگانہ حکومت کا استدلال ہے کہ لاء اینڈ آرڈر ریاست کی حکومت کے تحت آتا ہے لہذا گورنر کو زائد اختیارات دینا عوامی حکومت کے اختیارات کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران آندھرا پردیش حکومت نے تلنگانہ حکومت کے بعض فیصلوں کے خلاف مرکزی حکومت سے بارہا شکایت کی تھی۔ آندھرا پردیش حکومت نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت کے بعض فیصلے حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر علاقوں میں مقیم آندھرائی عوام کے مفادات کیلئے نقصاندہ ہیں۔ آندھرا پردیش حکومت تلنگانہ میں مقیم آندھرائی عوام کے تحفظ کیلئے گورنر کو زائد اختیارات کی پرزور حامی رہی ہے۔ یہ دوسری مرتبہ ہے جب مرکزی حکومت نے آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2014 کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو گورنر کے زائد اختیارات سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکز نے گورنر کو جو اختیارات دیئے ہیں ان میں امن و ضبط کی صورتحال کا جائزہ لینا گورنر کی ذمہ داری ہوگی۔ اس کے علاوہ گورنر اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے تبادلے عمل میں لاسکتے ہیں۔ کسی بھی صورتحال کے بارے میں گورنر پولیس سے جواب طلب کرسکتے ہیں اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کو گورنر کو رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ حیدرآباد میں مقیم آندھرائی عوام کے تحفظ کیلئے ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے گا جو نفرت پر مبنی جرائم، جبری وصولی اور آندھرائی عوام کی جان و مال کے تحفظ کا جائزہ لے گا۔بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ حکومت کے اختیارات کو سلب کرنے کے متعلق اس فیصلہ کے خلاف دیگر ریاستوں کے چیف منسٹرس کی تائید حاصل کرنے کیلئے غیر این ڈی اے برسراقتدار ریاستوں کے چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کریں گے۔