گورنر کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد حیدرآباد واپسی

حیدرآباد میں لا اینڈ آرڈر پر گورنر کے اختیارات پر بات چیت
حیدرآباد۔/22اگسٹ، ( سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے مشترکہ گورنر کی حیثیت سے نرسمہن کی وزیر اعظم سے ملاقات اہمیت کی حامل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نرسمہن نے وزیر اعظم کو ریاست کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ خاص طور پر حیدرآباد مشترکہ دارالحکومت میں گورنر کو لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر زائد اختیارات کے سلسلہ میں جاری تنازعہ سے نرسمہن نے وزیر اعظم کو واقف کرایا۔انہوں نے دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعہ کے بارے میں بھی وزیر اعظم کو واقف کرایا۔ واضح رہے کہ حکومت نے حیدرآباد میں گورنر کو زائد اختیارات کی فراہمی کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو رہنمایانہ خطوط جاری کئے تھے جس کی ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے شدت سے مخالفت کی جارہی ہے۔ اس مسئلہ پر جاری تنازعہ کے سلسلہ میں مرکزی حکومت نے گورنر کو نئی دہلی طلب کیا ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ کی کل مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات سے ایک دن قبل ہی گورنر نے راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور انہیں حقیقی صورتحال سے واقف کرادیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے وزیر اعظم سے کہا کہ وہ تقسیم آندھرا پردیش قانون 2014ء میں انہیں دیئے گئے اختیارات کے مطابق ہی کام کریں گے۔انہوں نے دونوں ریاستوں میں متنازعہ مسائل کے خوشگوار حل کیلئے حالیہ عرصہ میں دونوں چیف منسٹر کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کی تفصیلات سے بھی وزیراعظم کو واقف کرایا۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں چیف منسٹرس کی مشترکہ ملاقات کے حوصلہ افزاء نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اس سے تنازعات کی یکسوئی میں مدد ملے گی۔ ای ایس ایل نرسمہن نے نئی دہلی میں اپنے تین روزہ قیام کے دوران سکریٹری وزارت داخلہ، مرکزی وزیر داخلہ، قومی سلامتی مشیر اور مرکزی وزیر قانون سے بھی ملاقاتیں کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد سے ملاقات کے دوران گورنر کے زائد اختیارات کے مسئلہ پر بات چیت کی گئی۔ گورنر تین روزہ دورہ کے بعد آج شام حیدرآباد واپس ہوئے۔واضح رہے کہ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں قیام پذیر سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے آندھرا پردیش حکومت لاء اینڈ آرڈر کے سلسلہ میں گورنر کو زائد اختیارات کی مانگ کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت کی مخالفت کے باعث مرکز نے گورنر کے اختیارات کے مسئلہ کو فی الوقت ٹال دیا ہے تاہم بتایا جاتا ہے کہ وہ قانونی اور دستوری ماہرین سے مشاورت کے بعد دوبارہ رہنمایانہ خطوط طئے کرے گی۔