گورنر کو زائد اختیارات کی ذمہ داری کی مخالفت

چندرا بابو نائیڈو سازش کے ذریعہ تلنگانہ پر تسلط کے لیے کوشاں ، ہریش راؤ کا الزام
حیدرآباد۔/8جولائی، ( سیاست نیوز) ریاستی وزیر آبپاشی و مارکٹنگ ٹی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد میں گورنر کو زائد اختیارات کی فراہمی چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے گورنر کو لاء اینڈ آرڈر اور دیگر اُمور میں زائد اختیارات کی تجویز کی شدت سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف چندرا بابو نائیڈو مشترکہ مسائل کی یکسوئی کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے بات چیت کیلئے تیار ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں تو دوسری طرف تلنگانہ کے خلاف ان کی سازشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حیدرآباد میں امن و ضبط کی صورتحال پر گورنر کو زائد اختیارات چندرا بابو نائیڈو کی اسی سازش کا حصہ ہے۔ مرکزی حکومت اور گورنر کی آڑ میں چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے بعد ابھی تک علحدہ دفتر الاٹ نہ کئے جانے کی چندرا بابو نائیڈو نے شکایت کی اور تلنگانہ سکریٹریٹ میں سہولتوں کی کمی کا مسئلہ بھی اُٹھایا۔ لیکن تلنگانہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کیلئے ان کی مساعی جاری ہے۔ ہریش راؤ نے چندرا بابو نائیڈو کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ حیدرآباد میں سیما آندھرا عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے گورنر کو زائد اختیارات ضروری ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب بھی روانہ کیا۔ ہریش راؤ نے سوال کیا کہ تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت کے قیام کے بعد سے سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والوں پر مظالم یا ناانصافی کا کیا ایک بھی واقعہ پیش آیا ہے؟ حیدرآباد کے کسی پولیس اسٹیشن میں سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اس سلسلہ میں کوئی شکایت درج کی؟۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حیدرآباد میں دونوں علاقوں کے عوام پُرامن اور باہمی بھائی چارہ کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں لیکن چندرا بابو نائیڈو ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گورنر کو زائد اختیارات کا مقصد اقتدار کے دوران حیدرآباد میں کئے گئے غیر مجاز قبضوں اور تعمیرات کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ میں دونوں ریاستوں کے دفاتر کے درمیان بیریکیڈ کی تنصیب کی نائیڈو نے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ اس اقدام سے ملازمین کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا ہوگا لیکن یہی چندرا بابو نائیڈو عوام کو تقسیم کرنے کیلئے مرکزی حکومت سے مختلف فیصلے کروارہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دارالحکومت میں امن و ضبط کی ذمہ داری متعلقہ حکومت کی ہوتی ہے اسی طرح حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ تلنگانہ حکومت کے تحت ہونا چاہیئے۔ جس طرح ملک کی دیگر 28ریاستوں کو حقوق حاصل ہیں اسی طرح تلنگانہ ریاست کو بھی ملنے چاہیئے۔ انہوں نے چندرا بابو نائیڈو کے اس مطالبہ کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ حیدرآباد میں مقیم سیما آندھرائی عوام کے تحفظ کیلئے آندھرا پولیس کو تعینات کیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں صرف آندھرائی عوام ہی نہیں بلکہ مہاراشٹرا، گجرات، تاملناڈو، کیرالا ، کرناٹک، پنجاب اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔ کیا اُن ریاستوں کے عوام کے تحفظ کیلئے وہاں کی پولیس کو تعینات کیا جانا چاہیئے؟۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شہروں جیسے ممبئی، چینائی، بنگلور، سورت میں تلنگانہ اور آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد بڑی تعداد میں موجود ہیں ان کی حفاظت کیلئے اگر یہاں کی پولیس متعین کی جائے تو کیا متعلقہ حکومتیں برداشت کریں گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ امریکہ میں 20لاکھ ہندوستانی مقیم ہیں اس کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ہندوستانیوں کی کثیر تعداد ہے کیا ان کے تحفظ کیلئے ہندوستانی حکومت اپنی پولیس متعین کرسکتی ہے؟۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کو روکنے کیلئے چندرا بابو نائیڈو نے قومی سطح پر ہر ممکن کوشش کی لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب وہ چاہتے ہیں کہ مشترکہ دارالحکومت پر اپنا تسلط برقرار رکھیں۔ہریش راؤ نے بی جے پی قائدین کی جانب سے گورنر کو زائد اختیارات کی تائید پر افسوس کا اظہار کیا۔