گورنر کو حد سے زیادہ اختیارات پر احتجاج کی دھمکی

ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کا استعفیٰ بھی ممکن۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی کا اعلان
حیدرآباد۔/12اگسٹ، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے انتباہ دیا کہ اگر مرکزی حکومت حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کے اختیارات گورنر کو تفویض کرنے کے فیصلہ پر عمل کرتی ہے تو ٹی آر ایس بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کرے گی۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد پر گورنر کو زائد اختیارات ٹی آر ایس کیلئے کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت آندھرا پردیش تنظیم جدید بل 2014 کا بہانہ بناکر گورنر کو زائد اختیارات تفویض کرنے کی کوشش کررہی ہے حالانکہ حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس کا تنظیم جدید بل میں کوئی تذکرہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ریاست میں لاء اینڈ آرڈر متعلقہ حکومت کے تحت ہوتا ہے لیکن مرکزی حکومت تلنگانہ کی عوامی منتخب حکومت کے اختیارات کو سلب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں تشکیل شدہ نئی ریاستوں میں لاء اینڈ آرڈر متعلقہ حکومت کے تحت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گورنر کو لاء اینڈ آرڈر جیسے حساس مسئلہ پر زائد اختیارات کی فراہمی دوسرے معنوں میں گورنر راج کی طرح ہے اور اسے ٹی آر ایس ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ نرسمہا ریڈی نے بتایا کہ 18اگسٹ کو ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ اس سلسلہ میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کریں گے۔ پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس ارکان کے احتجاج کے بعد راجناتھ سنگھ نے انہیں اس مسئلہ پر بات چیت کی دعوت دی ہے۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ اس مسئلہ پر مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی کی صورت میں ٹی آر ایس ارکان پارلیمنٹ اپنے عہدوں سے مستعفی ہوجائیں گے۔ وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کے اشارہ پر مرکز مخالف تلنگانہ فیصلے کررہا ہے۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت غیر بی جے پی چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مشترکہ حکمت عملی طئے کرے گی۔ انہوں نے بتایاکہ ریاست کے اختیارات میں کمی کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کو مختلف جماعتوں کی تائید حاصل ہورہی ہے۔ نرسمہا ریڈی نے کہا کہ حیدرآباد میں مقیم سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے افراد کے جان و مال کے تحفظ کے نام پر گورنر کو زائد اختیارات کی تجویز ہے اور یہ تلنگانہ حکومت کو کمزور کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔