گورنر کا خطبہ ٹی آر ایس کے انتخابی منشور کی نقل

حیدرآباد /11 جون (سیاست نیوز) تلگودیشم لیجسلیچر پارٹی نے گورنر کے خطبہ کو ٹی آر ایس کا انتخابی منشور قرار دیا۔ تلگودیشم کے فلور لیڈر ای دیاکر راؤ نے احاطہ اسمبلی میں میڈیا پوائنٹ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس موقع پر تلگودیشم کے ارکان اسمبلی آر کرشنیا، ٹی کرشنا ریڈی اور دیگر بھی موجود تھے۔ ای دیاکر راؤ نے کہا کہ کسانوں کے قرضہ جات کی معافی کے معاملے میں کسانوں کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ریاستی وزیر فینانس ایٹالہ راجندر کے بیانات میں زمین آسمان کا فرق ہے، جس کی وجہ سے غیریقینی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، کسان خودکشی پر آمادہ ہو رہے ہیں اور حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے منشور میں کسانوں کو 8 گھنٹے مفت برقی سربراہی کا وعدہ کیا تھا، تاہم برقی قلت کو دور کرنے اور برقی پیداوار میں اضافہ کا حکومت کے پاس کیا منصوبہ ہے؟ اس کی وضاحت نہیں کی گئی۔ گھر گھر ملازمت کا وعدہ کیا گیا،

تاہم اس پر کس طرح عمل آوری ہوگی اور پہلے سال سرکاری و خانگی کتنی ملازمتیں فراہم کی جائیں گی؟ اس پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ اسی طرح غریب عوام کو مکانات اور دلتوں کو فی خاندان 3 ایکڑ اراضی دینے کا وعدہ کیا گیا، تاہم پہلے سال حکومت کتنے مکانات تعمیر کرے گی، آئندہ 5 سال کیا منصوبہ ہے؟ اور جو مکانات زیر تعمیر ہیں ان کا کیا ہوگا؟ حکومت ادھورے کاموں کو پورا کرے گی یا پھر نئے سرے سے اقدامات کرے گی؟ کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ انھوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور وزراء کو بیان بازی بند کرنے اور عملی اقدامات کے آغاز کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے تلنگانہ پر جان قربان کرنے والوں کے افراد خاندان کو فی کس دس لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم ماضی میں جن لوگوں نے قربانی پیش کی ہے ان کے ارکان خاندان کو نظرانداز کرنا ناانصافی ہوگی، لہذا انھیں بھی تمام سہولتیں فراہم کی جانی چاہئے۔ دریں اثناء آر کرشنیا نے کہا کہ 12 جون سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے، جب کہ ٹی آر ایس نے کے جی تا پی جی مفت تعلیم فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن اس پر عمل آوری کے احکامات جاری نہیں کئے۔