گورنر کا خطبہ تلنگانہ کی جامع ترقی اور تمام طبقات کی بھلائی کا مظہر

حیدرآباد ۔ 11 جون ۔ (سیاست نیوز ) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ محمد محمود علی نے گورنر ای ایس ایل نرسمہن کے خطبہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تلنگانہ کی ترقی کے نئے سنگ میل سے تعبیر کیا۔ اسمبلی اور کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے محمود علی نے کہاکہ گورنر کا خطبہ تلنگانہ کی جامع ترقی اور تمام طبقات کی بھلائی کا مظہر ہے ۔ گورنر نے حکومت کے جن اقدامات کا ذکر کیا اُن پر عمل آوری میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی ۔ محمود علی نے کہاکہ گزشتہ 14 برسوں کی طویل جدوجہد کے دوران چندرشیکھر راؤ تلنگانہ عوام کے مسائل اور اُن کی ضرورتوں سے بخوبی واقف ہوچکے ہیں، اُسی بنیاد پر پارٹی نے انتخابی منشور کو قطعیت دی ۔ تلنگانہ عوام نے ٹی آر ایس حکومت سے جو توقعات وابستہ کی ہیں اُن کی تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ۔ محمود علی نے کہا کہ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات ،

اردو زبان کی ترقی اور ترویج اور حیدرآباد کی ترقی سے متعلق گورنر کے اعلانات یقینا قابل ستائش ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں جو کہ مشترکہ ریاست کا تھا اقلیتوں کی ترقی کیلئے ایک ہزار بیس کروڑ روپئے مختص کئے گئے لیکن چندرشیکھر راؤ نے ریاست کی تقسیم کے باوجود تلنگانہ میں اقلیتوں کی بھلائی پر سالانہ ایک ہزار کروڑ روپئے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اُن کی اقلیت دوستی کا واضح ثبوت ہے ۔ انھوں نے کہا کہ شہر کی ترقی کیلئے حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چیف منسٹر کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد چندرشیکھر راؤ نے سب سے پہلا جائزہ اجلاس شہر کے مسائل کے بارے میں طلب کیا ۔ انھوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ حیدرآباد کی تہذیب اور تمدن کی برقراری کے ساتھ ساتھ تمام علاقوں کی یکساں ترقی کا منصوبہ تیار کریں۔ ٹی آر ایس حکومت نئے اور پرانے شہر میں تفریق کو مٹانے کا عہد کرچکی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ گورنر کے خطبہ پر نکتہ چینی کے بجائے خطبہ میں کئے گئے وعدوں پر عمل آوری کے سلسلے میں حکومت سے تعاون کریں۔ انھوں نے کہا کہ وہ بحیثیت ڈپٹی چیف منسٹر اقلیتوں اور شہر کے مسائل پر چیف منسٹر سے وقتاً فوقتاً مذاکرات کررہے ہیں۔