گورنر اتراکھنڈ عزیز قریشی کو مستعفی ہونے کی تجویز پیش کی

نئی دہلی ۔ 15 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) معتمد داخلہ انیل گوسوامی نے آج سپریم کورٹ کے روبرو اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گورنر اتراکھنڈ عزیز قریشی کو ان کے عہدہ سے مستعفی ہونے پر غور کرنے کی تجویز دی تھی کیونکہ انہوں نے بعض ایسے بیانات جاری کئے جو اس اعلیٰ ترین دستوری عہدہ کے مغائر تھے۔ تاہم انہوں نے گورنر کو مستعفی ہونے کی دھمکی دیئے جانے کے الزام کو مسترد کردیا۔ آج سپریم کورٹ میں پیش کردہ حلفنامہ میں انیل گوسوامی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی بھی گورنر کو مستعفی ہونے کیلئے مجبور نہیں کیا گیا سوائے میزروم گورنر کملا بینی وال ، جنہیں اس لئے برطرف کرنا پڑا کیونکہ ان طرز عمل اس اعلیٰ ترین دستوری عہدہ کے عین مطابق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ گورنرس نے خود اپنی غلطیوں کی بناء استعفیٰ دیا ہے ۔

معتمد داخلہ اس وقت تنازعہ کا شکار ہوگئے تھے جب یو پی اے دور حکومت میں تقرر کئے گئے بعض گورنرس نے ان پر عہدہ چھوڑنے کے لئے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا۔ انیل گوسوامی نے عزیز قریشی کے متنازعہ بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انتہائی سنگین جرائم جیسے عصمت ریزی کو خدا کی مداخلت کے ذریعہ ہی روکا جاسکتا ہے۔ معتمد داخلہ نے کہا کہ ان کا یہ بیان انتہائی غیر حساس اور بالکلیہ نامناسب تھا۔ چنانچہ انہوں نے گورنر کو مستعفی ہونے کی تجویز دی تھی ۔

انہوں نے کہا کہ اس تبصرہ کے بارے میں ان کی وضاحت اطمینان بخش نہیں تھی جبکہ اس تبصرہ پر کافی ہنگامہ آرائی بھی ہوئی ۔ چنانچہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے گورنر کو تجویز پیش کی تھی کہ وہ اس عہدہ سے مستعفی ہوجائیں کیونکہ انہوں نے گورنر کے دفتر کو غیر ضروری تنازعات کا شکار بنایا ہے ۔ انہوں نے حلفنامہ میں یہ بھی کہا کہ گورنر کو مستعفی ہونے کی دھمکی نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معتمد داخلہ کی جانب سے کسی گورنر سے صحافتی اطلاعات کے بارے میں جو صدر جمہوریہ کے سکریٹریٹ سے روانہ کی جاتی ہیں، پوچھنے میں کوئی قباحت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت بی ایل سنگھل مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا احترام کرتی ہے اور اس نے صرف ایک ہی گورنر ڈاکٹر کملا کو برطرف کیا ہے جن کا طرز عمل اس اعلیٰ ترین عہدہ کے مغائر تھا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کی اگست میں جاری کردہ نوٹس پر یہ حلفنامہ داخل کیا۔ عزیز قریشی نے نریندر مودی حکومت کی جانب سے انہیں عہدہ سے ہٹانے کیلئے کی گئی درخواست کو سپریم کورٹ میںچیالنج کیا تھا جس پر عدالت نے مرکز اور معتمد داخلہ کو نوٹس جاری کی تھی۔ یہ مقدمہ پانچ ججس پر مشتمل دستوری بنچ سے رجوع کیا گیا ہے۔

عزیز قریشی پہلے گورنر ہیں جو عدالت سے رجوع ہوئے ہیں جبکہ مودی حکومت نے دو گورنرس کو برطرف کردیا تھا ۔ یو پی اے حکومت میں تقرر کردہ چار دیگر گورنرس نے این ڈی اے کے اقتدار میں آتے ہی استعفیٰ دیدیا تھا۔ عزیز قریشی نے بتایا کہ این ڈی اے حکومت اقتدار آنے کے بعد گوسوامی نے 30 جولائی کو انہیں فون کیا اور استعفی دینے کی ہدایت دی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر وہ مستعفی نہیں ہوں گے تو انہیں برطرف کیا جائے گا ۔ 2 اگست کو عزیز قریشی نے صدر جمہوریہ کو راست وضاحت پیش کی اور اس کے بعد بھی معتمد داخلہ نے انہیں انتباہ دیا تھا۔ گورنر نے کہا کہ انیل گوسوامی نے 8 اگست کو دوبارہ فون کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستعفی ہوجائیں۔ انہوں نے اپنی درخواست میں کہا کہ مرکزی حکومت یا مرکزی وزیر داخلہ کو معتمد داخلہ کے ذریعہ گورنر کیلئے قواعد و ضوابط کا معیار مقرر کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ صرف انہیں برطرفی کا خوف دلاکر استعفیٰ کیلئے مجبور کرنے کی کوشش تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بھی حرکت دستور کی خلاف ورزی اور دستوری اقدار کے برعکس ہے۔