l قوم کا سرشرم سے جھک گیا: مجلس بچاؤ تحریک l منتخب نمائندوں کا عوام کے پیٹھ میں خنجر: مسلم لیگ
نظام آباد:11؍ مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مجلس کے دو کارپوریٹرس کی جانب سے غیر مجاز طریقہ سے 70 لاری گوبر مسلخ سے منتقل کرنے کے خلاف میونسپل عہدیداروں کی جانب سے 17 ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا گیا اور پولیس اسٹیشن میں مجلسی کارپوریٹرس کے خلاف کی گئی شکایت پر سیاسی دباؤ ڈالتے ہوئے پولیس اسٹیشن سے شکایت واپس لے لی گئی ۔ اس کے برخلاف مجلس بچاؤ تحریک نظام آباد کے قائدین مسرز میر بشارت علی ، عبدالباسط ،عبدالقادر ساجد ، زین العابدین (نعیم بھائی) محمد عثمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ دومجلسی کارپوریٹرس کی گوبر چوری واقعہ سے پوری قوم کا سر شرم سے جھک گیاہے۔اب تک چارہ گھوٹالہ اور کوئلہ گھوٹالہ کے بعد اس گوبر گھوٹالے نے پستی کی آخری حدوں کو پار کرلیا ہے اور ان سیاستدانوں کی غیر اخلاقی حرکت نے مسلم قوم کیلئے سوالیہ نشان پیدا کردیاہے۔ ایک معمولی سیکل چوری کے کیس میں شیخ حیدر کے خلاف فوری FIRمقدمہ درج کرنے والی نظام آباد پولیس آخر کس طرح 70لاری گوبر چوری کے واقعہ پر کیوں آنکھ بند کئے ہوئے تھی۔ کیا اس کے پیچھے بلدیہ کارپوریشن کے کسی بڑے عہدیدار کا ہاتھ ہے یا کسی سیاسی قائد کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ بلدیہ کے سینٹری انسپکٹر دھناگوڑ نے کس کے دبائو میں آکر 5ٹائون پولیس سے شکایت واپس لی۔17ہزارروپیئے جرمانہ بھرنے سے یہ ثابت ہوتاہے کہ دو مجلسی قائدین اس گوبر چوری میں ملوث ہیں۔ پھر کیوں نظام آباد کارپوریشن کے سینٹری انسپکٹر دھناگوڑ نے مذکورہ مجلسی کارپوریٹرس کے خلاف درج کی ہوئی شکایت واپس لی۔ مجلس بچائو تحریک نظام آباد اس گوبر چوری کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور اس میں ملوث کارپوریٹرس کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
٭٭ سلاٹر ہاؤز سے غیر مجاز 10لاکھ مالیتی گوبرکی منتقلی کے معاملہ میں شہر میں بے چینی کا ماحول بنادیا۔ عوام کا یہ ماننا ہے کہ خاطیوں کو ہر صورت سزا ملنی چاہئے۔ انڈین یونین مسلم لیگ کے ریاستی جنرل سکریٹری عبدالغنی اور ضلع صدر ایم اے مقیت نے ضلع کلکٹر رونالڈ روس اور ضلع ایس پی چندر شیکھر ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے اُن کو گوبر کی چوری کے معاملہ کے تعلق سے معلومات فراہم کی۔ ان قائدین نے کہاکہ عوام کے منتخبہ نمائندے ہی عوامی املاک کو برباد کرنے لگے تو سمجھ لو کہ اس ملک کی بربادی کا آغاز ہوچکا ہے۔ عوام جن پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا نمائندہ منتخب کیا انہوں نے ہی عوام کی پشت میں خنجرگھونپتے ہوئے عوامی مفاد کو ضرب لگانے کی جرات کی۔ ان قائدین نے کہاکہ مجلسی کارپوریٹرس کی اس حرکت سے بلدیہ اور کارپوریٹرس کا وقار متاثر ہوا ہے۔ جس کی بحالی کیلئے باریک بینی سے تحقیقات لازمی ہے۔ ان قائدین نے ضلع ایس پی اور ضلع کلکٹر سے سوال کیا کہ آخر ان کارپوریٹرس کے خلاف شکایت درج کروانے کے بعد واپس کیوں لی گئی اور اس معاملہ میں کس کا دباؤ کارفرما تھا؟ ان قائدین کا الزام ہے کہ اس معاملہ میں محض یہ دوکارپوریٹرس ہی ملوث نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے کوئی اور بڑا ہاتھ کام کررہاہے جوکہ اس چوری میں برابر کا حصہ دار ہے۔ لہذا اس معاملہ کی باریک بینی سے تحقیقات لازمی ہے ۔تاکہ ان کارپوریٹرس کے ساتھ ساتھ ان کی پشت پر موجود بڑی طاقت کو بھی عوام کے سامنے منظر عام پر لایاجائے اور ان خاطیوں کے خلاف سخت ترین قانونی کاروائی کی جائے ۔ ان قائدین نے ضلع کلکٹر اور ضلع ایس پی سے مطالبہ کیا کہ چوری کے اس سنگین معاملہ میں ان کارپوریٹرس کے پیچھے جس کا بھی ہاتھ ہو خواہ وہ سیاسی قائد ہو یاپھر بلدی عملہ کا کوئی ذمہ دار شخص ان کے خلاف شکنجہ کسنا ہوگا۔