پنجی ۔ 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت گوا نے کانکونا ٹاؤن میں منہدم عماررت کے مقام پر بچاؤ کاری مسدود کردی ہے کیونکہ منہدمہ عمارت سے نعشوں کونکالنے کیلئے مسلسل ڈرلنگ سے متصلہ عمارتوں میں ارتعاش کی وجہ سے ہلکے شگاف بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ وزیراعلیٰ منوہر پاریکر نے کہا کہ متصلہ عمارتوں کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے فی الحال بچاؤ کاری کام روک دیا گیا ہے لہٰذا بچاؤ کاری عملہ کو ہدایت کی گئی ہیکہ وہ فوری طور پر منہدمہ عمارت کے مقام سے ہٹ جائیں کیونکہ اگر متصلہ عمارتیں بھی منہدم ہوگئیں تو بہت زیادہ جانی نقصان ہوسکتا ہے۔ علاوہ ازیں منہدمہ عمارت سے ایک مزید کسی کے زندہ بچنے کی امیدیں بھی نہیں ہیں اور یہ باور کرلیا گیا ہیکہ منہدمہ عمارت میں اب کوئی بھی پھنسا ہوا نہیں ہے۔ ریاستی حکومت نے ایک ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر وی کے جھا کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے،
جس کے ذریعہ عمارت کے انہدام کی وجوہات کا پتہ لگایا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔ البتہ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اس حادثہ کی عدالتی تحقیقات کے امکانات کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ منہدمہ عمارت کو گذشتہ سال 26 ڈسمبر کو اکوپنسی سرٹیفکیٹ (OC) مقامی حکام نے جاری کیا تھا جس کیلئے انہوں نے (حکام) اسٹرکچورل اسٹیبلیٹی سرٹیفکیٹ بھی طلب نہیں کیا تھا۔ گوا پولیس نے تین بلڈرس جے دیپ سہگل، پردیپ سنگھ برنگ اور وشواس دیسائی کے خلاف پہلے ہی معاملات درج کرلئے ہیں جو ہنوز لاپتہ ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت بھارت ریالٹرس اینڈ ڈیولپرس کے دیگر پراجکٹس پر بھی امتناع عائد کررہی ہے جس میں مذکورہ تینوں بلڈرس کے حصص ہیں۔ یاد رہے کہ حادثہ میں اب تک 17 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔