حیدرآباد 24 جون (پریس نوٹ) ڈپٹی کمشنر آف پولیس ویسٹ زون مسٹر اے وینکٹیشورا راؤ نے بتایا کہ پولیس بندوق کا لائسنس رکھنے والے ہر فرد پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہر لائسنس یافتہ کو یو آئی این کو حاصل کرنا چاہئے حتیٰ کہ اگر لائسنس یافتہ جموں و کشمیر یا پھر دہلی کے علاوہ مقامی پولیس کے لئے ایک کلید ثابت ہوگی کیوں کہ گن سے متعلق تمام تر تفصیلات جیسے لائسنس اور بندوق کی نوعیت کی جانچ کرسکے۔ ڈی سی پی ویسٹ زون نے بتایا کہ ویسٹ زون میں 2 ہزار 400 لائسنس پائے جاتے ہیں جس سے تقریباً 2 ہزار کی تفصیلات کا اندراج کرتے ہوئے یو آئی این حاصل کیا ہے جبکہ مابقی افراد جس میں آرمی کے جوان بھی شامل ہیں اس وقت شہر سے باہر موجودگی ہوسکتی ہے یا پھر وہ اس سلسلہ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انھوں نے آرم لائسنس ہولڈرس کے لئے نیشنل ڈاٹا بیس کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ لائسنس یافتہ کو نقلی لائسنس کے استعمال سے روکنے کے اقدامات کرنا ہے۔ اگر بہار سے بھی گن لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو یہاں اس کی تصدیق آسان طریقہ سے نہیں ہوپاتی ہے۔ اس کے لئے ہم منصب بہار ریاست سے تصدیق کیلئے وقت درکار ہوسکتا ہے تاہم یو آئی این کے ذریعہ صرف چند سیکنڈس میں اس کی تمام تر تفصیلات دستیاب ہوجاتی ہیں۔ اسی دوران ڈپٹی کمشنر آف پولیس وی ستیہ نارائنا نے یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہاکہ ساؤتھ زون میں 450 لائسنس یافتہ ہیں جن میں سے تقریباً 400 افراد نے اپنی تفصیلات کو اپ لوڈ کیا ہے۔ ستیہ نارائنا نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں سٹی پولیس نے بہار سے حاصل کردہ نقلی گن لائسنس کو گرفتار کیا ہے جوکہ خانگی سکیورٹی ایجنسیوں میں بحیثیت سکیوریٹی گارڈ خدمت انجام دے رہے تھے۔ پولیس کا خیال ہے کہ یو آئی این نظام سے بندوق رکھنے والوں میں ڈسپلن کا باعث بنے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گن رکھنے والا فرد کسی دوسرے شخص کو لائسنس یا پھر ہتھیار نہیں دے سکے گا اور نہ ہی لائسنسنگ اتھاریٹی کو اطلاع دیئے بغیر متعدد مرتبہ گن کو تبدیل کرسکے گا۔ ایم مہیندر ریڈی ڈی جی پی تلنگانہ نے بتایا کہ حیدرآباد میں تقریباً 4 ہزار 500 افراد گن لائسنس یافتہ ہیں جبکہ مضافاتی کمشنریٹ سائبرآباد اور رچہ کنڈہ حدود میں لائسنس یافتہ کی تعداد لگ بھگ 2 ہزار کی تعداد میں ہیں جن کے گن لائسنس کی تفصیلات کے اندراج کا سلسلہ این ڈی اے میں جاری ہے۔ ترجیحی بنیاد پر چند سو ہی لائسنس کی تفصیلات کا اندراج ہوا ہے۔