گنگولی کے خلاف کارروائی پر التواء کی درخواست مسترد

نئی دہلی 6 جنوری (سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ نے آج ایک درخواست مفاد عامہ کی سماعت سے انکار کردیا جس میں خواہش کی گئی تھی کہ سابق جج ایک کے گنگولی کے خلاف تمام کارروائیوں پر حکم التواء جاری کیا جائے ۔ گنگولی کو جنسی ہراسانی کے الزامات کا سامنا ہے ۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پی ستا سیوم اور جسٹس رنجن گوگوئی پر مشتمل ایک بنچ نے درخواست مفاد عامہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ موجودہ مرحلہ پر اس مسئلہ میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ بنچ نے کہا کہ ہم نے بیانات اور التجاؤں کے ہر لفظ کا مطالبہ کیا ہے ہم اس میں دخل اندازی کا ارادہ نہیں رکھتے ،یہ ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اس بارے میں کچھ کہا جائے قانون کو اپنا کام کرنے دیجئے ۔ ایک خاتون ڈاکٹر اور دہلی کے شہری ایم پدما نارائن سنگھ کی درخواست مفاد عامہ کی سماعت کرتے ہوئے عدالت کی بنچ نے یہ تبصرہ کیا ۔ اس درخواست میں خواہش کی گئی تھی کہ گنگولی کے خلاف کسی بھی کارروائی پر حکم التواء جاری کیا جائے ۔

انہوں نے کہا تھا کہ گنگولی ایک سازش کا شکار ہوئے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے بحیثیت منصف ایک ممتاز فٹبال کلب واقع کولکتہ اور کل ہند فٹبال فیڈریشن کے درمیان ایک معاملے کی یکسوئی کی تھی۔ جس میں لاء انٹرن نے بھی شرکت کی تھی۔ سپریم کورٹ کی تین رکنی کمیٹی کی جانب سے مغربی بنگال انسانی حقوق کمیشن کے صدر نشین جسٹس گنگولی کی سرزنش کی گئی تھی اور لاء انٹرن کے ساتھ ان کے رویہ کو ناگوار قرار دیا تھا۔ جسٹس گنگولی قبل ازیں ان درخواستوں سے اپنی لا تعلقی کا اظہار کرچکے ہیں ۔ سابق اٹارنی جنرل سولی سوراب جی کے ساتھ اپنی بات چیت کے دوران انہوں نے ان درخواستوں سے لا تعلقی ظاہر کرتے ہوئے مغربی بنگال انسانی حقوق کمیشن کی صدر نشین سے مستعفی ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ سابق اٹارنی جنرل نے گنگولی سے کہا تھا کہ یہ ’’دانشمندی کا فیصلہ ‘‘ ہے

۔چیف جسٹس آف انڈیا پی ستا سیوم کے نام ایک مکتوب میں گنگولی نے الزامات کی تردید کی تھی۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب سابق جسٹس اے کے گنگولی نے سابق اٹارنی جنرل سولی سوراب جی سے ٹیلی فون پر اپنی بات چیت کے بارے میں کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر انہوں نے بھی اخبارات میں پڑھی ہے اور کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے ۔ اس سوال پر کہ کیا وہ مستعفی ہونے کا ارادہ کررہے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ انہوں نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔گنگولی اور سوراب جی کی بات چیت کی خبر مرکزی کابینہ کی جانب سے گنگولی کا معاملہ سپریم کورٹ سے صدارتی ریفرنس کے ذریعہ رجوع کرنے کی منظوری دینے کے فوری بعد منظر عام پر آئی ہے۔