حیدرآباد ۔ 20 مارچ (نمائندہ خصوصی) گائڈ ایک ایسا ذمہ دارانہ پیشہ ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کو ان کے متعلقہ تاریخی اور یادگاری مقامات کی تفصیلات سے آگاہ کرتا ہے جس سے سیاح کو سیاحت کا صحیح لطف اٹھا پاتا ہے۔ ایسے ہی گائیڈس جو گنبدان قطب شاہی یعنی سات گنبد میں سیاحوں کیلئے ’’گائڈ‘‘ کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یہ دونوں حضرات ہوش سنبھالنے کے بعد سے اس پیشہ سے وابستہ ہوگئے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ آج ہماری ملاقات 33 سالہ محمد متین خان جو گولکنڈہ قلعہ کے بڑے بازار میں پیدا ہوئے۔ ہوش سنبھالنے کے بعد سے سیاحوں کیلئے گائڈ کا کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کے والد کا نام محمد صدیق خاں ہے اور وہ بھی گائڈ کا ہی کام کرتے ۔ انہیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ نہایت ہی خوش اخلاق اور اردو انگریزی زبان بولنے پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گنبدان قطب شاہی کے چپے چپے سے واقف ہیں اور تاریخ بھی ازبر ہے۔ محمد متین نے بتایا کہ وہ گائڈنگ کے علاوہ تاریخی عمارتوں کی تصاویر بھی فروخت کرتے ہیں۔ مسٹر متین گذشتہ 18 سال سے گائڈ کا کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکٹوبر، نومبر، ڈسمبر ایک طرح کا سیزن ہوتا ہے چونکہ ان ہی مہینوں میں دنیا بھر کے سیاح حیدرآباد کا رخ کرتے ہیں۔ ان کا کام ہیکہ وہ اپنے سیاحوں کو نہایت خوش اخلاقی کے ساتھ تمام تفصیلات اور معلومات ان ہی کے زبان میں سناتے ہیں اور پھر جو سیاح اپنی مرضی سے دیدے اسے بخوشی قبول کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گائڈ ایک ایسا پیشہ ہے جہاں ہمیشہ گیٹ سے لے کر تمام عمارتوں، گنبدوں تک دوڑ دھوپ کرتے ہوئے سیاحوں کو تمام تفصیلات سے واقف کراتے ہیں اور وہ جب چلے جاتے ہیں تو ہم ایک بار پھر نئے سیاحوں کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اتنا دوڑدھوپ صرف اس لئے کرتے ہیں کہ تاکہ ہمیں حلال رزق حاصل ہوسکے۔ ان کے علاوہ ایک اور گائڈ محمد منور خان ہیں جو پچھلے 16 سال سے یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ یہ سوشل ورکر بھی ہیں اور سماجی خدمات بھی انجام دیتے ہیں۔ یہ بھی قلعہ گولکنڈہ کے ہی رہنے والے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر حیدرآباد کوئی ایک بار آجائے تو وہ سات گنبد کا نظارہ کئے بغیر واپس نہیں جاتے۔ مذکورہ دونوں گائڈ نے بتایا کہ ہم ایک طرح سے اپنی ریاست کے سفیر کے طور پر خدمت انجام دیتے ہیں۔ یہاں آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں کو حیدرآباد کی حقیقی تصویر دکھاتے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ ہم جیسے غریبوں کیلئے کوئی مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرے تاکہ ہم بھی اپنے اور اپنے بچوں کی باآسانی کفالت کرسکیں۔