احمدآباد ۔ 22 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک خصوصی عدالت نے آج 13 سال قدیم مقدمہ جو 2002ء میں گلبرگ سوسائٹی کے قتل عام کے بارے میں تھا، ختم کردیا۔ اس قتل عام میں 69 افراد کو جن کا تعلق اقلیتی فرقہ سے تھا، بشمول سابق کانگریس رکن پارلیمنٹ احسان جعفری ہلاک کردیئے گئے تھے لیکن تاحال مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ یہ انتہائی بدنام تشدد کے واقعات میں سے ایک ہے جو گجرات میں مابعد گودھرا فسادات کے بعد پیش آئے تھے۔ وکیل ایس ایم ووہرا نے جو گلبرگ قتل عام سے زندہ بچ جانے والوں کی پیروی کررہے تھے، آج جج پی بی دیسائی کے اجلاس پر اپنے دلائل مکمل کردیئے۔ فیصلہ کا اعلان بعدازاں کیا جائے گا۔ ووہرہ نے کہا کہ گلبرگ سوسائٹی پر حملہ کے بعد ایک منصوبہ بند مجرمانہ سازش کی گئی تھی۔ ایسی سازش جو سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بموجب صرف ملزمین کے کردار کو ظاہر کرتی ہے لیکن کوئی راست ثبوت نہیں ہے۔ تمام ملزمین جو گلبرگ سوسائٹی کو 28 فبروری 2002ء کو گھیرے ہوئے تھے ایک ہی قسم کے نعرے لگارہے تھے۔