کراچی ، 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ وہ فرانسیسی طنزیہ ہفتہ وار کے خلاف بطور احتجاج جمعہ کو ایک ملین افراد کا اجتماع منظم کرے گی، جبکہ یہاں ایک روز بعد اضطراب آمیز سکون ہے کہ گزشتہ روز گستاخانہ کارٹون پر پرتشدد احتجاجوں میں چار افراد زخمی ہوگئے تھے۔ کم از کم چار افراد بشمول ایک فوٹو جرنلسٹ ( اے ایف پی نیوز ایجنسی) کو جماعت اسلامی کی اسٹوڈنٹ ونگ کے ہزاروں حامیوں اور پولیس کے درمیان کل شدید تصادم میں زخمی ہوگئے جبکہ احتجاجی لوگ یہاں واقع فرانسیسی قونصل خانہ میں گھسنے کی کوشش کررہے تھے۔ پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کئے جس کے نتیجے میں تین دیگر اشخاص بشمول ایک ٹی وی کیمرہ مین زخمی ہوئے۔ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے کل اعلان کیا کہ لگ بھگ ایک ملین (دس لاکھ) لوگوں کا جمعہ کو سڑکوں پر اجتماع ہوگا تاکہ پیغمبر محمد صلعم کی شان میں گستاخی کرنے والے خاکے کی مذمت کی جاسکے۔ جماعت الدعوہ جو ممنوعہ لشکر طیبہ کا ونگ ہے، جس نے ممبئی میں 2008ء کے حملوں کی سازش رچائی، اس کے سربراہ حافظ سعید نے ایک دیگر احتجاج کا اعلان کیا جو کل لاہور میں ہوگا۔ کل منعقدہ احتجاج اس متنازعہ کارٹون کے خلاف تھے جو طنزیہ جریدہ ’شارلی ایبڈو‘ میں شائع ہوئے۔ اس تصادم کے دوران ایک گولی فوٹوجرنلسٹ کے پھیپھڑے میں پیوست ہوکر اُس کا سینہ چیر گئی لیکن وہ خطرے سے باہر بتایا جاتا ہے اور یہاں واقع آغا خان یونیورسٹی ہاسپٹل میں بحال ہورہا ہے، اس اسپتال کے ایک طبی ملازم نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی۔