گریٹر حیدرآباد میں مرض دق ( ٹی بی ) میں اضافہ

ٹی بی کی جانچ کے لیے ڈاٹ مراکز ، آلودگی سے بچنے احتیاط ضروری
حیدرآباد 19جنوری (سیاست نیوز)۔ سوائن فلو کے بعدتلنگانہ میں اب دق یعنی ٹی بی کے زیادہ معاملے سامنے آرہے ہیں۔محکمہ صحت کے مطابق ٹی بی کے سب سے زیادہ معاملات گریٹرحیدرآباد میں ریکارڈ کیے جارہے ہیں۔حیدرآباد کے بعد دوسرے نمبر پر ضلع رنگاریڈی ہے۔جبکہ تیسر ے نمبر پر ضلع محبو ب نگر ہے۔ٹی بی کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ پر محکمہ صحت کے حکام الجھن کا شکار ہوگئے ہیں۔محکمہ صحت کاکہناہے کہ گذشتہ سال 20 ڈسمبر تک تلنگانہ میں ٹی بی کے 40ہزار سے زائد کیسس درج کیے گئے ہیں۔اسطرح حیدرآباد میں7ہزار100سو اور نگاریڈی میں 6ہزار3سو ٹی بی کے معاملے درج کیے گئے ہیں۔حکام کا کہناہے کہ یہ اعدادوشمارتلنگانہ کے سرکاری اسپتالوں میں درج کے گئے ہیں۔جبکہ محکمہ صحت نے یہ انکشاف کیاہے کہ تلنگانہ کے خانگی اسپتالوں میں ہرما ہ میں ٹی بی کے 200سے 300معاملے درج کیے جارہے ہیں۔ایراگڈہ میں واقع ٹی بی اسپتال کے ڈاکٹروں کاکہناہے کہ حیدرآباد کی آلودگی میں اضافہ کی وجہ سے ٹی بی کے زیادہ کیس درج کیے جارہے ہیں۔ڈاکٹروں کاکہناہے کہ بخار، بلغم اورکھانسی کا آنا، بھوک اور وزن میں کمی ، ٹی بی کی علامتیں ہیں ۔محکمہ صحت کے حکام تین ہفتوں تک سردی زکام ، بخار،کھانسی اور وزن میں مسلسل کمی آنے پرٹی بی کا معائنہ کرانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔حکام کا کہناہے کہ ٹی بی کا پتہ لگانے کے لیے سرکاری اسپتالوں میں بلغم کا معائنہ کیا جاتاہے اورضرورت پڑنے پرایکس۔رے بھی نکالے جاتے ہیں۔بلغم کے معائنہ کے بعد ٹی بی کی تصدیق ہونے کے بعد( زمرہ اول ) میں رکھاجاتاہے جبکہ بلغم کے معائنہ سے ٹی بی کی تصدیق نہ ہونے پرایسے معاملات کو ( زمرہ دوم ) کے تحت رکھ کرعلاج کیاجاتاہے۔محکمہ صحت کا کہناہے کہ ٹی بی کی تصدیق کے لیے سرکاری اسپتالوں میں تمام سہولتیں دستیاب ہیں۔سرکاری اسپتالوں میں ٹی بی کی جانچ کے لیے DOTمراکز کا قیام بھی عمل میں لایاگیاہے۔DOTمراکز پرٹی بی کے مریضوں کا معائنہ کرکے انہیں وقت پرمناسب علاج فراہم کیاجارہاہے۔حکام ٹی بی کی شکایت پرDOTمراکزسے رجوع ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ خانگی اسپتالوں میں ٹی بی کے مرض میں مبتلا مریضوںکے علاج میں تاخیرہوتی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ٹی بی کے مریضوں کو مسلسل 6ماہ تک علاج کرنے کے بعد ہی اس مرض سے نجات ملتی ہے۔ماہرین کا ٹی بی کا 6ماہ کا کورس پورانہیں کیاگیاتو یہ مرض وقفہ وقفہ سے دوبارہ آسکتاہے۔اس لیے ماہرین ٹی بی میں مبتلا مریضوں کو علاج کے دوران لاپرواہی نہ برتنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ حیدرآباد میں میٹروریل پروجیکٹ کے تعمیرکاموں اور خستہ حال سڑکوں کی وجہ آلودگی میں بتدریج اضافہ ہورہاہے۔ جس سے عوام کی صحت متاثر ہورہی ہے۔اس کے علاوہ پرہجوم مقامات پرصاف صفائی کا خیال نہ رکھنے سے بھی ٹی بی جیسے امراض کی وباء پھیل رہی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ عوامی مقامات پرماسک کا استعمال کرکے وبائی امراض سے بچاجاسکتاہے۔ڈاکٹرو ںکا کہناہے کہ پْرہجوم بسوں اورٹرین میں بھی وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ رہتاہے اس لیے بس اور ٹرین میں سفرکرتے ہوئے ماسک ، رومال وغیرہ کے استعمال کو ترجیح دیناچاہیے۔ ماہرین صحت کا کہناہے کہ ایڈس اورسوائن فلوکی طرزپرٹی بی کے متعلق عوام میں شعوربیدارکیاجاناچاہیے۔