حلقوں کی ازسرنو حدبندی باقی، ہائیکورٹ کی ہدایت پر حلف نامہ داخل کرنے کا امکان
حیدرآباد /4 فروری (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کرانے ہائیکورٹ کی سرزنش کے باوجود 6 ماہ کی تاخیر کا امکان ہے، کیونکہ نئے بلدی حلقوں کی حد بندی کے لئے اب تک حکومت کی جانب سے احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ گریٹر حیدرآباد بلدیہ کی دو ماہ قبل میعاد مکمل ہو چکی ہے، اسپیشل آفیسر کی قیادت میں بلدیہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ ہائی کورٹ نے مقررہ وقت پر انتخابات نہ کرانے پر حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے اندرون ایک ہفتہ حلف نامہ داخل کرنے ایٍڈوکیٹ جنرل کو ہدایت دی ہے۔ بلدیہ حیدرآباد کے ارکان کی تعداد 150 ہے، جس میں 20 تا 25 حلقوں کے اضافہ کا امکان ہے، کیونکہ شہر کی آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے حال ہی میں کرائے گئے جامع سروے کے مطابق حیدرآباد کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے۔
بڑھتی آبادی کے لحاظ سے سہولتیں اور دیگر بنیادی چیزوں کی فراہمی ہے۔ علاوہ ازیں ہر بلدی وارڈ میں کم از کم 40 ہزار افراد کا ہونا ضروری ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے آبادی کے تناسب سے بلدی حلقوں میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے، تاہم حلقوں کی حد بندی کے لئے ہنوز احکامات جاری نہیں کئے۔ باوثوق ذرائع کے بموجب بلدی عہدہ داروں نے حد بندی کے لئے بلیو پرنٹ تیار کرلیا ہے، صرف حکومت کی منظوری کا انتظار ہے۔ حکومت کی منظوری کے بعد حلقوں کی نئی حد بندی کا آغاز ہوگا، جس کے لئے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔
اس کی ایک سیاسی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ٹی آر ایس دیہی علاقوں کی بنسبت شہری علاقوں بالخصوص حیدرآباد میں کمزور ہے۔ ٹی آر ایس کے پلینری سیشن کے بعد شہر کے پارٹی کیڈر میں ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شہر کی نمائندگی کرنے والے تلگودیشم کے تین ارکان اسمبلی حکمراں ٹی آر ایس میں شامل ہو چکے ہیں، جب کہ مزید تین ارکان رابطے میں ہیں۔ ذرائع کے بموجب چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ گریٹر حیدرآباد میں پارٹی کے استحکام کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں، جب کہ کانگریس اور تلگودیشم کے کئی سابق کارپوریٹرس ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔