گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی تین حصوں میں تقسیم کی منصوبہ بندی

موجودہ کارکردگی سے چیف منسٹر تلنگانہ غیر مطمئن ، ماسٹر پلان کے تحت شہر کو ترقی دینے کا عزم
حیدرآباد ۔ 18 اگست ۔ ( سیاست نیوز)مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے اُسے تین حصوں میں منقسم کرنے کے متعلق حکومت منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے جی ایچ ایم سی کے حدود میں تبدیلی لاتے ہوئے اُسے تین حصوں میں تقسیم کرنے کامنصوبہ تیار کیا جارہا ہے لیکن تاحال اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے چونکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد میں چند برسوں قبل ہی شہر کے نواحی و مضافاتی علاقوں کو شامل کرتے ہوئے اسے عظیم تر کیا گیا تھا اور سابق میں یہ مجلس بلدیہ حیدرآباد ہوا کرتی تھی لیکن چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اسی لئے وہ چاہتے ہیں کہ بلدی نظم و نسق کو بہتر سے بہتر بنایا جائے اور شہری حدود میں موجود تاریخی ورثہ کے تحفظ کیلئے بلدیہ کو ذمہ داری تفویض کی جائے ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے موصولہ اطلاعات کے بموجب چیف منسٹر تلنگانہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور اس کے لئے وہ کارپوریشن کے دائرہ کارکو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے چیف منسٹر نے کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کاذہن بنایا ہے اور اس پر اعلیٰ عہدیداروں سے مشاورت کا عمل جاری ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں تخفیف اور تین کارپوریشن بنائے جانے کی صورت میں نہ صرف حیدرآباد بلکہ دیگر کارپوریشنوں کی تیز رفتار ترقی کو یقینی تصور کئے جانے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے اور ان امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کی جانب سے آئندہ دو یوم میں کسی بھی وقت اس سلسلے میں قطعی فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر کے دفتر نے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں غیرمجاز تعمیرات کو منہدم کرنے کی مہم میں شدت پیدا کرنے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ شہر کو ایک وسیع ماسٹر پلان کے تحت شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کیا جاسکے ۔ اسی طرح حکومت کی جانب سے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے دائرہ کار کو منقسم کرتے ہوئے عہدیداروں کی خدمات سے بہتر استفادے کا بھی منصوبہ تیار کیاجارہا ہے ۔ کے چندرشیکھر راؤ نے عہدیداروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ شہر کی مجموعی ترقی بالخصوص عوامی مقامات کو خوبصورت بنانے کا منصوبہ تیار کریں اور شہر حیدرآباد کو عالمی طرز کی سہولتوں کا حامل شہر بنانے میں حکومت سے تعاون کرتے ہوئے منصوبے روانہ کریں ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ازسرنو تقسیم کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں مشاورت کا عمل تیزی کے ساتھ جاری ہے اور حکومت بہرصورت شہر حیدرآباد کی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود کو تقسیم کرتے ہوئے انھیں تین حصوں میں بانٹنے کا منصوبہ رکھتی ہے ۔