گرجاگھروں میں ‘کنفیشن’ کی روایت پر

قومی خواتین کمیشن کا بیان ان کی ذاتی رائے : الفونس
نئی دہلی ۔28 جولائی ۔( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر کے جے الفونس نے کہا ہے کہ گرجاگھروں میں کنفیشن یا اعتراف کی روایت پر پابندی عائد کرنے کی قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما کے مطالبہ سے مرکز کا کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ الفونس نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک پر اپنے پیج پر آج لکھا کہ قومی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن ریکھا شرما کی یہ ذاتی رائے ہے کہ گرجا گھروں میں کنفیشن پر پابندی عائد ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ محترمہ شرما کی ذاتی رائے ہے ۔ گھرجا گھروں میں کنفیشن ایک مذہبی معاملہ ہے اور مودی حکومت نے کبھی بھی اس میں مداخلت نہیں کی ہے ۔ مرکزی وزیر کا یہ بیان ان خبروں کے بعد آیا ہے کہ کیرل کیتھولک بشپ کاونسل نے محترمہ شرما کے بیان کا نوٹس لیا ہے ۔ کاونسل کے نائب سکریٹری جنرل ورگیز والیکٹ نے کہا کہ یہ مطالبہ چونکانے والا اور مذہبی امور میں مداخلت کی کوشش ہے ۔ کیرل میں ایک خاتون کے ساتھ پادری کے ذریعہ جنسی زیادتی کا معاملہ سامنے آنے کے بعد قومی خواتین کمیشن نے مرکز کو ایک خط لکھ کر گرجاگھروں میں کنفیشن کی روایت کو بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ کنفیشن کی آڑ میں خواتین کا جنسی استحصال کیا جارہا ہے ۔ الفونس کا تعلق کیرل سے ہے اور وہ عیسائی ہیں۔