احمد آباد ؍ ترواننتھاپورم ۔ /21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں سخت گیر موقف کے حامل ہندو گروپس نے کل تقریباً 200 عیسائیوں کو ہندو مذہب میں شامل کرایا ہے ۔ وشواہندو پریشد کے گجرات سکریٹری اجیت سولنکی نے بتایا کہ 200 سے زائد عیسائیوں نے مذہبی تقریب میں حصہ لیتے ہوئے ہندو دھرم اختیار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رضاکارانہ طور پر یہ مذہبی تبدیلی عمل میں آئی اورکسی طرح کی طاقت یا مالی فائدوں کی پیشکش کی انہوں نے تردید کی ۔انہوں نے بتایا کہ 200 سے زائد افراد نے اپنے مذہبی لاکٹ آگ میں پھینک دیئے اور انہیں نئے ہندولاکٹ دیئے گئے ۔ وی ایچ پی کے اس رویہ پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ا۔ حالیہ دنوں سے جاری تنازعہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی آر ایس ایس پر ناراضگی ظاہر کی ۔ یہاں تک کہ انہوں نے مستعفی ہونے کی دھمکی دی ہے ۔ (خبر صفحہ 3 پر) گجرات کے ضلع ولساد میں بڑے پیمانے پر مذہبی تبدیلی کے اس پروگرام کی عیسائیوں اور اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کی ہے ۔
انہوں نے حکمراں بی جے پی جماعت اور اس کی ہم خیال آر ایس ایس پر اقلیتوں کو زبردستی ہندو مذہب قبول کرنے کیلئے مجبور کرنے کا الزام عائد کیا ۔حکومت گجرات نے اس واقعہ سے خود کو لاتعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر رضاکارانہ طور پر مذہبی تبدیلی ہوئی ہے تو حکومت کا اس میں کوئی رول نہیں ہے ۔ اسی طرح کیرالا کے ضلع الاپوزہ میں تقریباً 30 عیسائی افراد نے جن کا تعلق 8 مختلف شیڈول کاسٹ فرقوں سے ہے ، ہندو مذہب اختیار کرلیا ۔ اس مقصد کیلئے کانی چانالار میں واقع مقامی مندر میں ایک تقریب منعقد کی گئی ۔ ریاستی وزیر داخلہ رمیش چینیتلا نے میڈیا کو بتایا کہ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس اے ہیماچندرن کو اس معاملہ کی تحقیقات کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ وی ایچ پی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تمام نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے ۔ وی ایچ پی نے ان کی مذہب میں واپسی میں صرف مدد کی ۔ مقامی وی ایچ پی لیڈر پرتاپ جی پڈیکل نے یہ بات کہی جنہوں نے اس تقریب کا انعقاد کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع الاپوزہ میں مزید 150 خاندانوں نے ہندومذہب اختیار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور ان کیلئے کرسمس کے دن ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام منعقد کیا جائے گا ۔