گجرات میں لڑکیوں کو جینس و ٹی شرٹ نہ پہننے حکومت کی ہدایت

احمدآباد ۔ 20 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گجرات میں لڑکیوں کے لئے لباس کوڈ جاری کرتے ہوئے حکومت نے پوسٹرس شائع کئے ہیں جس میں لڑکیوں کو ہدایت دی کہ وہ جینس اور ٹی شرٹ پہن کر گھر سے باہر نہ نکلیں۔ وزیراعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات میں ترقی کا دعویٰ اس وقت کھوکھلا ثابت ہوا جب طلبہ کو ندی عبور کرنے کیلئے پانی میں تیر کر روزانہ اسکول جانا پڑتا ہے۔ گجرات کی شاندار یا مثالی ترقی کا دعویٰ کرتے ہوئے مرکز میں اقتدار حاصل کرنے والے وزیراعظم مودی کی ریاست میں خواتین کی عصمت کس حد تک محفوظ ہے اس کا ثبوت خاتون چیف منسٹر گجرات آنندی بین پٹیل کے جاری کردہ پوسٹرس سے ملتا ہے جن میں لڑکیوں سے اپیل کی گئی ہے کہ لڑکیوں کو کیا کپڑے پہننے چاہئے اور کیا نہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کی مہم کے دوران ایک متنازعہ پوسٹر بھی جاری کیا گیا۔

ملک کے دیہی یا پسماندہ علاقوں میں خواتین و طالبات پر ہونے والے مظالم کے تناظر میں وزیراعظم مودی کی ریاست میں لڑکیوں کی عصمت کو خطرہ ہے۔ نریندر مودی نے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ عوام اپنے بیٹوں پر نظر رکھیں تاکہ ملک میں لڑکیوں کی عصمت ریزی کے واقعات نہ ہوں۔ گجرات میں اسکولی طلباء کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے اسکول جانے کیلئے طلباء کو ندی پار کرنے تیر کر جانا پڑتا ہے، کی خبروں کا سخت نوٹ لے کر گجرات حکومت کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کی ہے اور چار ہفتے کے اندر رپورٹ دینے کی ہدایت دی ہے۔ واضح رہیکہ ادے پور ضلع کے پانچ دیہاتوں کے 125طلباء کو نرمدا ضلع کے تلکووا تعلقہ اتاوڑا گاؤں کے اسکول جانے ہر دن ندی تیر کر پار کرنا پڑتا ہے۔