گاندھی نگر 18 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے قیام کے 12 سال اور 24 مرتبہ کی توسیع کے بعد جسٹس ناناوتی کمیشن نے 2002 میں گجرات میں ہوئے مسلم کش فسادات پر اپنی دوسری اور قطعی رپورٹ پیش کردی ہے ۔ ان فسادات میں ہزاروں مسلمان ہلاک کردئے گئے تھے ۔ کمیشن نے آج اپنی رپورٹ چیف منسٹر آنندی بین پٹیل کو پیش کی ۔ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے جسٹس ( ریٹائرڈ ) جی ٹی ناناوتی اور ہائی کورٹ کے جسٹس ( ریٹائرڈ ) اکشے مہتا پر مشتمل تھا ۔ یہ دونوں آج چیف منسٹر آنندی بین پٹیل کی قیامگاہ گئے اور انہیں اپنی رپورٹ پیش کردی ہے ۔ چیف منسٹر کے دفتر کے عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اس کمیشن سے کہا گیا تھا کہ فسادات میں تمامس رکاری عہدیداروں کے رول بشمول اس وقت کے چیف منسٹر ‘ ان کے کابینی رفقا سینئر سرکاری اور پولیس عہدیداروں اور دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے ارکان کے رول کی تحقیقات کی جائیں ۔ جسٹس ناناوتی نے بعد ازاں کہا کہ ہم نے رپورٹ پیش کردی ہے جو زائد از 2,000 صفحات پر مشتمل ہے ۔ عہدیداروں نے کہا کہ ناناوتی کمیشن کی رپورٹ چیف منسٹر کو پیش کردی گئی ہے ۔ اس کمیشن نے گجرات میں سابرمتی ٹرین واقعہ کے بعد پھوٹ پڑے فسادات کی تحقیقات کی ہے ۔ اس کمیشن نے 2008 میں پیش کردہ اپنی پہلی رپورٹ میں کہا تھا کہ گودھرا ٹرین کوچ کو نذر آتش کرنے کا وقاعہ ایک حادثہ نہیں بلکہ منظم سازش تھی اور اس کمیشن نے اس وقت کے چیف منسٹر نریندر مودی اور ان کے کابینی رفقا کو کلین چٹ دی تھی ۔ جسٹس ناناوتی نے تاہم آج پیش کردہ اپنی رپورٹ کی تفصیلات بتانے سے انکار کیا اور کاہ کہ ایسا کرنا کمیشن کیلئے قانون ساز اسمبلی کی جانب سے طئے کردہ شرائط کے خلاف ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کے مواد کے تعلق سے کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ ایسا کرنا قواعد کے خلاف ہوگا ۔
اب یہ ریاستی حکومت کا کام ہے کہ وہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لائے یا نہ لائے ۔ کمیشن کی جانب سے رپورٹ کی پیشکشی میںتاخیر سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا بھی تذکرہ رپورٹ میں کردیا گیا ہے اور پہلے رپورٹ کا جائزہ لیا جانا چاہئے ۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ اس تحقیقاتی کمیشن کو سپریم کورٹ کی مقرر کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا انتظار کرنا تھا ۔ اس ٹیم نے بھی مابعد گودھرا فسادات کی تحقیقات کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے احکام جاری کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کو کمیشن میں اپنے دستاویزات پیش کرنے سے روکدیا تھا اور اس میں دو ڈھائی سال لگ گئے ۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ کے آر نارائنن کی جانب سے گجرات فسادات پر اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو تحریر کردہ مکتوب سے متعلق استفسار پر جسٹس ناناوتی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ میں ان مکتوبات کے تعلق سے کچھ اطلاعات تھیں ۔ ہم نے انہیں طلب کیا تھا لیکن مرکزی حکومت نے کہدیا کہ وہ یہ مکتوبات ہمیں نہیں دے سکتے ۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مکتوب ہمیں حوالے کئے جاتے تو اس سے تحقیقات میں مدد ملتی کیونکہ اس میں صحیح معلومات ہوسکتی تھیں۔ جسٹس ناناوتی نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ کئی افراد اس کے سامنے جرح اور بیان دینے کیلئے پیش نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ بااثر افراد اگر کمیشن میں پیش ہوتے تو تحقیقات میں اس سے بھی مدد ملتی ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ فسادات کے کچھ واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کردیا گیا جس کے نتیجہ میں عوام کے ذہنوں میں غلط تاثر پیدا ہوا ہے ۔ 1984 کے مخالف سکھ فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات کے مابین فرق سے متعلق استفسار پر انہوں نے کہا کہ دونوں ہی فسادات میں کوئی فرق نہیں تھا اور ہم ایسے واقعات کی تحقیقات کرنے کے عادی ہیں۔ مخالف سکھ فسادات کی تحقیقات بھی جسٹس ناناوتی نے ہی کی تھی ۔ ناناوتی کمیشن نے اپنی پہلی تحقیقاتی رپورٹ میں اس وقت کے چیف منسٹر گجرات نریندر مودی اور ان کے کابینی رفقا کو کلین چٹ دیدی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف یا دوسرے پولیس عہدیداروں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ کمیشن نے 2002 سے 2012 تک جملہ سات کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں ۔ کمیشن کے سکریٹری نے قانون حق معلومات کے تحت جواب میں یہ بات بتائی تھی ۔ اس کمیشن نے بارہ سال میں اپنی تحقیقات مکمل کی ہیں اور اسے اتنے عرصہ میں چھ چھ ماہ کی جملہ 24 مرتبہ توسیع دی گئی تھی ۔