احمد آباد /13 فروری (سیاست ڈاٹ کام) گجرات کی ایک عدالت نے گجرات فسادات 2002ء کے 68 ملزمین کو ضلع بناس کنٹھا کے دیہات سیشان میں فسادات برپا کرنے کے مقدمہ سے ثبوتوں کی کمی کی بنا پر باعزت بری کردیا۔ ایڈیشنل ضلع و سیشن جج وی کے پجارا نے دیہات میں فساد برپا کرنے کے الزام سے بری کردیا، کیونکہ ان کے خلاف ثبوت موجود نہیں تھے۔ اس تشدد میں 14 افراد بشمول 10 بچے ہلاک کئے گئے تھے۔ استغاثہ کی دلیل تھی کہ عینی شاہدین کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم افراد 14 افراد کے قتل میں ملوث تھے۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ شناختی پریڈ میں عینی شاہدین ان کی شناخت نہیں کرسکے۔ پولیس کے بموجب تلواروں اور لاٹھیوں سے مسلح پانچ ہزار افراد نے دیہات پر حملہ کیا تھا، جہاں 200 بلوچ مسلم قیام پزیر تھے۔ ہجوم نے 14 مسلمانوں بشمول دو لڑکیوں عمر علی الترتیب 5 سال اور 11 سال اور دو خواتین کو ہلاک کردیا تھا۔