گجرات فسادات مقدمہ کی ہائیکورٹ میں سماعت پر حکم التوا ء

نئی دہلی 9 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے 2002 کے نروڈہ پاٹیہ فساد کیس میں سزا یافتگان کی جانب سے دائر کردہ درخواست نظر ثانی پر گجرات ہائیکورٹ میں سماعت پر آئندہ دو ماہ کیلئے حکم التوا جاری کردیا ہے ۔ اس کیس میں سابق وزیر مایا کوڈنانی کو سزائے عمر قید سنائی گئی تھی ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو اور جسٹس ایم بی لوکر و جسٹس ایم وائی اقبال پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ اس درخواست پر گجرات ہائیکورٹ میں سماعت پر عبوری حکم التوا رہے گا ۔ سپریم کورٹ نے اس خیال کا اظہار کیا کہ جو تمام 11 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی ہیں ان پر بیک وقت سماعت ہونی چاہئے ۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے یہ شکایت کی کہ ہائیکورٹ میں صرف مایا کوڈنانی کی اپیل پر تیزی سے سماعت کی جا رہی ہے اور دوسرے سزا یافتگان کی درخواستیں التوا میں ہی ہیں۔ ایس آئی ٹی نے سینئر وکیل ہریش سالوے کے ذریعہ درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواستوں کی بیک وقت سماعت کی اس کی درخواست پر ہائیکورٹ جج کوئی فیصلہ نہیں کر رہے ہیں۔

ایس آئی ٹی نے آج ایک سربمہر لفافہ میں فسادات کیس کی تحقیقات میں پیشرفت کی تفصیلات بھی عدالت میں پیش کیں۔ بنچ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح سے کوڈنانی کی درخواست کی تیزی سے سماعت کی گئی اور ان کے پرسنل اسسٹنٹ کی درخواست کو التوا میں رکھ دیا گیا ۔ احمدآباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے جو 2002ء کے گلبرگ سوسائٹی فساد مقدمہ کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی تھی، تحت کی عدالت سے کہا کہ سابق سٹی پولیس کمشنر پی سی پانڈے کا اس واقعہ میں کوئی مجرمانہ کردار نہیں ہے اور نہ ایسی کوئی سرگرمیاں محکمہ جاتی تحقیقات میں ان سے منسوب کی گئی تھیں ۔خصوصی وکیل استغاثہ آر سی کوڈیکر نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بموجب سابق کمشنر پولیس پانڈے کا اس سلسلہ میں کوئی مجرمانہ کردار نہیں ہے۔