گجرات فسادات مقدمہ ،اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

گجرات کے قصبہ اوڈ فسادات میں 23 اقلیتی افراد کو زندہ جلادینے کا لرزہ خیز مقدمہ
احمدآباد ۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) گجرات ہائیکورٹ نے گجرات فسادات 2002ء مقدمہ کی اپیلوں پر اپنی سماعت مکمل کرلی ہے جس کے دوران فرقہ وارانہ فسادات میں کم از کم 23 اقلیتی فرقہ کے افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا۔ گجرات کے ضلع آنند کے قصبہ اوڈ میں فسادات بھڑک اٹھے تھے اور 23 ملزمین کو جنہیں ایک خصوصی عدالت میں اموات کا ذمہ دار قرار دیا تھا اور 18 افراد کو عمرقید کی سزاء سنائی تھی، کیخلاف کئی اپیلیں ہائیکورٹ میں داخل کی گئی تھیں۔ جسٹس عقیل قریشی اور جسٹس بی این کاریہ پر مشتمل گجرات ہائیکورٹ کی بنچ نے گذشتہ ہفتہ اپیلوں پر مقدمہ کی سماعت مکمل کرتے ہوئے اپنا حکمنامہ محفوظ کردیا۔ مجرموں وکیل صفائی یوگیش لاکھانی نے اسکا انکشاف کیا۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم ایس آئی ٹی جس نے واقعہ کی تحقیقات کی تھیں، ریاستی حکومت اور مہلوکین کیساتھ مجرمین کو جنہیں عمرقید کی سزاء دی گئی ہے انہیں سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ 23 افراد کو زندہ جلادیا گیا تھا۔ اپریل 2012ء میں تحت کی عدالت نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے 18 افراد کو عمرقید اور باقی افراد کو 5 سال کی سزائے قید سنائی تھی۔